ملک بھر کےعلماء مشائخ نے’عورت مارچ‘کےمنتظمین کو حیران کن دعوت دے دی،تفصیل جان کر ماروی سرمدبھی پریشان ہو جائیں گی

HomeLatest Updates

ملک بھر کےعلماء مشائخ نے’عورت مارچ‘کےمنتظمین کو حیران کن دعوت دے دی،تفصیل جان کر ماروی سرمدبھی پریشان ہو جائیں گی

پاکستان علماء کونسل عورت مارچ کے منتظمین کو خواتین کو وراثت کا حق دینے، ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹوں ، جہیز اور گھریلو تشددکے خاتمے کیلئے مذاکرات کی

وہ 30 ممالک جہاں پاکستانی شہری بنا ویزے کے ہی داخل ہو سکتے ہیں
’قوم متحد رہے ،جلد آزمائش سے نکل جائیں گے‘ یوٹیلیٹی اسٹورز سے راشن….وزیراعظم عمران خان
کیا کسی کو 2 دفعہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے؟ انسان کے صحت مند ہونے کے بعد کتنے دن تک یہ جسم میں رہتا ہے؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

پاکستان علماء کونسل عورت مارچ کے منتظمین کو خواتین کو وراثت کا حق دینے، ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹوں ، جہیز اور گھریلو تشددکے خاتمے کیلئے مذاکرات کی دعوت دیتی ہے،اسلامی اور پاکستانی اقدار کے خلاف نعروں سے ملک میں صورتحال کشیدہ ہورہی ہے،پاکستان کی نظریاتی اساس اور معاشرتی اقدار کو پامال کرنے والےملک و قوم کےخیرخواہ نہیں ہوسکتے،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘جیسے بیہودہ نعروں کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایسی سوچ اور ذہنیت رکھنے والے لوگ فکری انتشار کا شکار اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنےکی کوشش کر رہے ہیں،ملک میں اس نئے فتنے کی وجہ سے تصادم کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔
یہ بات علماء و مشائخ نے پاکستان علماء کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں یوم عفت و حیا کے موقع پر اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا ابو بکر صابری نےاسلام آباد، مولانا نعمان حاشر ،مولانا الیاس مسلم نے راولپنڈی ،مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا اسید الرحمٰن سعید، مولانا محمد اسلم صدیقی ، مولانا زبیر عابد، مولانا عبدالحکیم اطہر نے لاہور، مولانا محمد رفیق جامی ، مولانا حق نواز خالد، علامہ طاہر الحسن ،قاری عصمت اللہ معاویہ ، مولانا امین الحق اشرفی ، مولانا حبیب الرحمٰن عابد نے فیصل آباد، مولانا عبد الکریم ندیم نےخان پور ،علامہ عبد الحق مجاہد،مولانا انوار الحق مجاہد ، شبیر یوسف گجر، مولانا عبد المالک آصف نےملتان، مولانا محمد احمد مکی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مفتی محمد عمران معاویہ نےمظفر گڑھ،مولانا اسعد زکریا نےکراچی، قاضی مطیع اللہ سعیدی نےگجرات ،مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا حنیف عثمانی نےساہیوال،مولانا عثمان بیگ فاروقی نےشاہکوٹ، پیر اسعدحبیب شاہ جمالی ، مولانامحمد جابرنےڈیرہ غازی خان، مولاناا حسان احمد حسینی نےڈسکہ ، مولانا عبدالرئوف نےبہاولنگر ، مولانا فہیم الحسن فاروقی نےشیخوپورہ ،مولانا محمد یاسر علوی نےسمندری، مولانا عقیل احمد نقشبندی، مولانا عبد اللہ رشیدی نےقصور ، مولانا منیب الرحمان حیدری نےنارووال، مولانا محمد ایوب صفدر، مولانا محمد زبیر کھٹانہ نےگوجرانوالہ، مولانا ابو بکر حمزہ نےچکوال، مولانا سعد اللہ لدھیانوی نےٹوبہ ٹیک سنگھ ، مولانا قاری وقاص سلیمی نےگوجرہ، مفتی محمد عمر فاروق نےخانیوال ، مولانا تنویر احمد نےبہاولپور ،مولانا کلیم اللہ معاویہ نےننکانہ ، مولانا عزیز الرحمن عثمانی نےتلہ گنگ، مولانا عزیز اکبر قاسمی نےراجن پورمیں اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسم اللہ کی امانت ہے،اس پر اللہ ہی کی مرضی چلے گی ،اس کے علاوہ جو بات بھی کی جائے گی وہ اللہ کی نافرمانی اور بغاوت ہوگی،میرا جسم میری مرضی کابیہودہ نعرہ لگانے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ عورت کے وراثت میں حق کی بات کریں،جہیز کی لعنت پر آواز اٹھائیں،عورت کی تعلیم و تربیت کی بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے اور اسلام ہی رہے گی،وہ اسلام جو کامل ضابطہ حیات ہے اوراپنا طاقتور ترین کلچر رکھتا ہے، جو آج 14سو سال گزرنے کے بعد بھی ہر سیاسی ، سماجی ،معاشی اور معاشرتی مسئلوں کا حل بتاتا ہے،اسے اپنانے سے خلوص ، مساوات اور انسانی حقوق کی نگہداشت نظر آنے لگے گی،چند افراد ہمیشہ سے پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘جیسے سلوگن اس ملک میں بے راہ روی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ہمارے خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کو تار تار کرنے کی مہم ہے،کسی انسان کا جسم ہو یا زبان، وہ اُن حدود و قیود کے پابند ہیں جو دین اسلام ہم مسلمانوں کے لیے طے کرتا ہے اور جس کی گارنٹی ہمارا آئین دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ لگانے والے چند افراد عورتوں کے حقوق کے نام پر بےراہ روی کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ان شاء اللہ پاکستان جیسے معاشرے میں ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان ، ہماری تہذیب اور کلچرسے بیزارچند عناصرناصرف معاشرتی اقدار کو پامال کر رہےہیں بلکہ ہمارے مضبوط خاندانی نظام کی جڑوں کو کاٹنے کے درپے ہیں،انہیں کسی صورت ایسے بیہودہ پروگراموں کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے ہماری اقدار پامال ہوں ،اس تصادم کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے پوری قوم کو متحدہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہیے ، اپنی نظریاتی و جغرافیائی اساس کا تحفظ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0