Advertisement

کیا خواتین بازار میں کسی کے سلام کا جواب باآواز بلند دے سکتی ہیں؟کیا عورتوں پر آوازکاپردہ بھی لازم ہے؟معروف سعودی عالم دین نے واضح کردیا

Advertisements

 مشیر ایوان شاہی اور سربر آوردہ علماء بورڈ کے رکن شیخ عبداللہ المنیع نے بتایا ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک پروگرام میں ام محمد نامی ایک خاتون نے رابطہ کرکے دریافت کیا تھا کہ وہ بازار میں کسی کے سلام کا جواب بآواز بلند دے سکتی ہے یا نہیں۔ ام محمد نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک معمر خاتون ہے۔ کبھی اسے اسپتال جانا ہوتا ہے تو کبھی اسی طرح کے کسی پبلک مقام جانے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ وہاں مرد حضرات موجود ہوتے ہیں۔کیا وہاں میں کسی کو بآواز بلند سلام کرسکتی ہوں

اور کسی کے سلام کا جواب دے سکتی ہوں یا نہیں۔ بعض لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے لہذا وہ بآواز بلند سلام کرنے یا اسکا جواب دینے کی مجاز نہیں۔ شیخ المنیع نے اسکے جواب میں بتایا کہ سلام میں فتنے کا کوئی خوف نہیں۔عورت کی آواز کا پردہ نہیں۔ عورت اونچی آواز میں ذکر کرسکتی ہے۔عورتیں مردوں کو اور مرد عورتوں کو سلام بھی کرسکتے ہیں۔ عورتیں ان کا جواب بھی دے سکتی ہیں۔ جو لوگ اسے ناجائز سمجھتے ہیں اور سلام کرنے اور اسکا جواب دینے پر نکیر کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔

Advertisement

Source zeropoint.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings