Advertisement

آصف زرداری جب سندھی پگڑی پہنیں تویہ سمجھیں وزیرریلوے نے سابق صدرکے 3سٹائل بتاکرلوگوں کے قہقہے لگوادئیے

Advertisements

وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ میں اور عمران خان جند جان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری نے کل سندھ کی پگڑی پہن لی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔کیونکہ جب بھی آصف علی زرداری جیل جانے والا ہوتا ہے تو پگڑی پہن لیتا ہے۔جب وہ اسپتال جانے والا ہوتا ہے تو چھڑی پکڑ لیتا ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ آصف علی زرداری کے تین اسٹائل بڑے مشہور ہیں کہ جب وہ صدر بننے والا ہو تو وہ سوٹ میں آ جاتے

ہیں۔جب اسپتال میں ضمانت کروائی ہو تو چھڑی پکڑ لیتے ہیں۔شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے کی ترقی سے ہی سی پیک کو ترقی ملے گی۔فی الحال اتنے وسائل نہیں کی پھاٹک لگا سکیں۔ہم نے ایک روپیہ لگائے بغیر دس ٹرینیں چلا دیں اور بھی چلائیں گے۔واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو ایک عشرہ سے تاخیر کے شکار 22 کلو میٹر طویل لئی ایکسپریس وے اور فلڈ چینل پراجیکٹ کیلئے فوکل پرسن نامزد کر دیا ہے۔ ہے۔ وزیراعظم ہائوس کی طرف سے بدھ کو یہاں جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد منصوبہ کی موزونیت ( فیزیبلیٹی)، میں رہنمائی کریں گے، موزوں ہونے کی صورت میں وہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول وزارت منصوبہ بندی ، ترقی واصلاحات اورحکومت پنجاب کی مشاورت سے منصوبہ کو آگے بڑھانے کیلئے کام کریں گے۔اس منصوبہ کا آغاز مارچ 2007ء میں سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف نے کیا تھا اوراس کا مقصد نالہ لئی میں سیلاب پرقابوپانا تھا، منصوبہ کے تحت سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور نالہ لئی کے دونوں اطراف رسائی سڑکوں کی تعمیر شامل تھی تاکہ مری روڈ پرٹریفک اور مقامی نالوں پر سیوریج کی پانی کا دبائو کم کیا جاسکے۔ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے اس منصوبہ پرکام کاآغازکیا تاہم

2008 ء میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس منصوبہ کیلئے فنڈز کی فراہمی کا سلسلہ بند کردیا جس کے نتیجے میں بالآخرمنصوبہ پرکام رک گیا۔
اصل منصوبہ کے تحت ایکسپریس وے پر دونوں اطراف میں دولین سڑکوں ، کٹاریاں پل، موتی محل اورعمارچوک میں انٹرچینجز جبکہ دیگر مقامات پر8 فلائی اوور اور 10 پلوں کی تعمیر کرنا تھی۔ منصوبہ کے تحت موتی محل سنیما کے پاس سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر اور راولپنڈی کے ایسے علاقوں میں سیوریج لائنوں کوبچھایا جانا تھا جہاں سرے سے سیوریج لائنز نہیں یا مخدوش حالت میں ہیں۔ابتدائی منصوبہ کے تحت نالہ لئی میں پرانے واٹر ڈرینج کے اطراف اور فرش کو کنکریٹ میں ڈھالنا تھا تاکہ بارش اورسیلابی پانی کا اخراج بہ آسانی ہوسکے، نالہ لئی میں کچرا اورکیچڑ جمع ہونے سے ہرسال قیمتی جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings