Advertisement

سادہ نظر آنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سے تیز نکلے!

Advertisements

سادہ نظر آنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سب سے تیز نکلے! جانتے ہیں چوہدری سرور اور پرویز الٰہی کے بارے میں کیا کہا؟ معروف صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کے بارے میں جو تاثر پایا جاتا ہے وہ غلط ہے وہ بہت گھنے آدمی ہے۔عثمان بزدار اتنے سادہ ہی نہیں جتنا ان کے بارے میں تاثر دیا جا رہا ہے۔عثمان بزدار اچھے خاصے تیز آدمی ہیں۔ان کے بارے میں یہ بھی تاثر غلط ہے کہ وہ کتاب نہیں پڑھ سکتے اور دستخط نہیں کرسکتے۔

عمران خان نے عثمان بزدار کے بارے میں کہا تھا کہ یہ وسیم اکرم بن کے دکھائیں گے۔اب اتنا تو نہیں پتہ کہ یہ وسیم اکرم بن کر دکھائیں گے یا نہیں لیکن مجھے اتنا ضرور پتہ ہے کہ انہوں نے اپنی مخالف لابی سے ڈیل صحیح کیا ہے۔حالانکہ عثمان بزدار کہتے ہیں کہ میرے خلاف کوئی لابی نہیں ہے۔جس پر میں نے عثمان بزدار سے کہا تھا کہ آخر بیوروکریٹ آپ کا فون سننے گا؟ پرویز الہی کا فون سننے گا یا پھر علیم خان اور چوہدری سرور کا فون سنے گا ۔جس پر عثمان بزدار نے جواب دیا کہ کام سب کا ہو گا لیکن ہو گا میرے دفتر سے۔اور جو کام میرے دفتر سے ہوگا اس میں قاعدہ اور قانون چلے گا۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کہا کہ عثمان بزدار نے اپنی گفتگو میں سب وزراء کی تعریف کی لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ ان سب کا کام میرے آفس سے ہی ہو گا اور انہوں نے اپنی گفتگو میں پنجاب کی بڑی بڑی شخصیات کو دھبڑ دھوس کر دیا اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اتنے بھی سادہ نہیں ہیں۔خیال رہے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سادگی کی بہت مثالیں دی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ بغیر پروٹوکول کے سفر کرتے ہیں اور جہاں بھی جائیں لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔تاہم وہیں ان پر تنقید بھی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ فائلیں نہیں پڑھ سکتے اور دستخط نہیں کر سکتے۔تاہم اس تمام تنقید کے باوجود بھی وزیراعظم عمران خان ان کی ہمیشہ حمایت کرتے ہیں۔

دوسری طرف جہانگیر ترین اب تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو وزیراعلٰی کے طور پر قبول نہیں کر سکے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیراعلٰی پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا تھا، تب یہ خبر جہانگیر ترین کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوئی تھی۔ جہانگیر ترین اس سے قبل عثمان بزدار کو جانتے تک نہیں تھے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری سرور کے مابین کوئی اختلافات نہیں ہیں۔

دونوں رہنما ایک ہی پیج پر ہیں۔ تاہم چونکہ پاکستان تحریک انصاف میں چودھری سرور کا گروپ شاہ محمود قریشی کے گروپ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جہانگیر ترین اس بات سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ اور اسی لیے پنجاب میں عثمان بزدار یا چودھری سرور کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ق لیگ نہیں بلکہ جہانگیر ترین کا ہی ہاتھ ہے۔ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھی علیم خان وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار سے زیادہ خوش دکھائی نہیں دیتے، جبکہ چودھری سرور بھی ان کے لیے زیادہ قابل قبول نہیں ہیں۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings