Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب نے بڑا حکم جاری کر دیا ، اب پولیس عوام کے لئے کیا کرے گی ؟ جانئے

Advertisements

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبے  میں  جرائم کی بیخ کنی کے لئے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے ڈکیتی ،راہزنی اوردیگر جرائم کے سدباب کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے،عوام کی جان و مال کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں،صوبے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا،پولیس عوام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔

وزیر اعلیٰ آفس میں سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقدہوا جس میں  اجلاس میںصوبے میں امن و امان کی صورتحال اور جرائم پر قابو پانے کیلئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب  نے  سنگین جرائم میں ملوث اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلئے صوبہ بھر میں بھر پور مہم چلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ انہیں پیش کی جائے، جرائم کی شرح بڑھنے پر متعلقہ پولیس افسر سے جواب طلبی کی جائے گی، عوام کی جان و مال کے تحفظ میں تساہل برتنے والے افسروں کو جواب دینا ہوگا، اعداد وشمار کی بجائے جرائم کے سدباب کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں ،امن وامان کے حوالے سے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں،امن وامان کی صورتحال کا باقاعدگی سے خود جائزہ لوں گاکیونکہ جرائم کا خاتمہ اورعوام کے جان و مال کا تحفظ پہلے اوردوسرے کام بعد میں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کسی سیاسی دباؤ کو خاطر میں رکھے بغیر فرائص سرانجام دے،کارکردگی کا مظاہر کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی،

میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایاجائے،کو ئی اثرورسوخ خاطر میں نہ لایا جائے،صوبے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا،پولیس عوام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے ،میں پولیس فورس کو بھرپور سپورٹ کروں گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کا مورال بھی بلند کرنا ہے اوراسے اعتماد بھی دینا ہے،پولیس افسران ہر ضلع اورڈویژن میں کھلی کچہریاں لگا کرسائلین کے مسائل حل کریں،پولیس کو سائلین سے نرمی اورخوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب  نے ہدایت کی کہ پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کے لئے ریفریشر کورسز کرائے جائیں اور پولیس فورس ہفتہ خوش اخلاقی منائے،افسران عوام کے مسائل کے حل کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھیں،سائل کو تھانوں میں تبدیلی کا احساس ہونا چاہیے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پولیس کو نتائج دینا ہوں گے، پولیس کو روایتی انداز چھوڑ کرسائنٹیفک انداز میں مقدمات کی تفتیش پر توجہ دینی چاہیے،میں ہر 15روز بعد امن وامان کی صورتحال سے متعلق میٹنگ کروں گا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس حکام سے ہر ضلع میں امن و امان سے متعلق صورتحال کی رپورٹ بھی طلب کرلی جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیر التواء کیسوں کو جلد نمٹانے کے لئے تیزرفتاری سے اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ،قائم مقام انسپکٹر جنرل پولیس،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اوراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings