Advertisement

ٹافیاں بیچنے والارجب طیب اردگان ترکی کاطاقتورترین صدر،عالم اسلام کاعظیم لیڈرکیسے بنا؟جانیں

Advertisements

ترک صدررجب طیب اردگان26 فروری 1954ء کوپیداہوئے۔انہوں نے ترکی کوفرش سے عرش پرپہنچادیا،رجب طیب اردگان کوبچپن سے ہی پیسے کمانے کاشوق تھااوراس شوق کی تکمیل کے لیے وہ ٹافیاں ،لیمونیڈ وغیرہ بیچتے تھے۔رجب طیب اردگان فٹ بال کے اتنے بہترین کھلاڑی تھے کہ مقامی کلب والوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ فٹبالربن جائیں اورملک کانام روشن کریں۔لیکن ان کے باپ نے انہیں منع کردیا۔کلب والوں کوہمیشہ اس بات کادکھ رہالیکن رجب طیب اردگان جب ملک کے حکمران بن گئےا ورترکی کوترقی کی راہ پرگامز ن کردیاتوکلب والوں نے ان کے نام کاسٹیڈیم بنادیا۔رجب28 اگست2014ء سے صدارت کے منصب پر فائز اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (ترکی) (AKP) کے سربراہ ہیں جو ترک پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔اکتوبر 2009ء میں دورۂ

پاکستان کے موقع پر رجب اردوغان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز نشان پاکستان سے نوازا گیا۔لاوہ ازیں جامعہ سینٹ جانز، گرنے امریکن جامعہ، جامعہ سرائیوو، جامعہ فاتح، جامعہ مال تپہ، جامعہ استنبول اور جامعہ حلب کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔ فروری 2004ء میں جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیول اور فروری 2009ء میں ایران کے دار الحکومت تہران نے رجب اردوغان کو اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔رجب طیب اردگان 1994میں ترکی کے سب سے بڑے شہراستنبول کے میئربن گئے۔لیکن 1998میں طیب اردگان کوکئی مہینے جیل میں رہناپڑا۔اورترکی کے اندران پرسیاست کرنے پرپابندی لگادی گئی۔ترکی میں اس وقت آذان دینے پرپابندی تھی لوگ نماز ادانہیں کرسکتے تھےاس وقت طیب اردگان نے ریلی میں ایک نظم پڑھی جس کے بعدانکی سیاست پر پابندی لگادی گئی اورانہیں کئی مینے تک جیل میں رکھاگیا۔انہوں نے جونظم پڑھی وہ یہ ہے:مینارہمارے چاقوہیں گنبدہمارے ہیلمٹ ہیںمسجدیںہمارے گھرہیں ا

ورایمان ،وفاداری ہمارے سپاہی ہیں
انہوں نے کہاکہ یہ بات مجھے ہضم نہیں ہوتی اگرسارے آسمان اورزمین کی مخلوق ہمارے خلاف ہوجائے سیلاب اورلاوے ہمیں تباہ وبربادکرنے کے لیے آجائیں توہم پھربھی نہیں گھبرائیں گے ۔سن 2008ء میں غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملے کے بعد رجب طیب ایردوان کے زیرقیادت ترک حکومت نے اپنے قدیم حلیف اسرائیل کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس پر سخت احتجاج کیا۔ ترکی کا احتجاج یہیں نہیں رکا بلکہ اس حملے کے فوری بعد ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں ترک رجب طیب ایردوان کی جانب سے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک اور برملا اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد ڈاؤس فورم کے اجلاس کے کنویئر کیک جانب سے انہیں وقت نہ دینے پر رجب طیب ایردوان نے فورم کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور فوری طور پر وہاں سے لوٹ گئے۔

اس واقعہ نے انہیں عرب اور عالم اسلام میں ہیرو بنادیا اور ترکی پہنچنے پر فرزندان ترکی نے اپنے ہیرو سرپرست کا نہایت شاندار استقبال کیا۔اس کے بعد 31 مئی بروز پیر 2010 ء کو محصور غزہ پٹی کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے آزادی بیڑے پر اسرائیل کے حملے اور حملے میں 9 ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد پھر ایک بار اردوگان عالم عرب میں ہیرو بن کر ابھر اور عوام سے لے کر حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے ترکی اور ترک رہنما رجب طیب ایردوان کے فلسطینی مسئلے خاص طورپر غزہ پٹی کے حصار کے خاتمے کے لیے ٹھوس موقف کو سراہا اور متعدد عرب صحافیوں نے انہیں قائد منتظر قرار دیا۔ اور وہ واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ترکی کے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔


15 جولائی 2016 کی شب فوج کے ایک دھڑے نے اچانک ہی ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن بغاوت کی اس سازش کو تر ک عوام نے سڑکوں پر نکل کر، ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ناکام بنادیا اور یہ ثابت کیا کہ اصل حکمران وہ ہے جو لوگوں کے دلوں پر حکومت کرے

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings