Advertisement

بطور قوم ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے،فرشتہ! معاف کرنا، تم پاکستان میں پیداہوئی

Advertisements

اسلام آباد میں دس سالہ بچی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے تھے۔فرشتہ نامی ننھی بچی پہلے دردندوں کی ہوس کا نشانہ بنی بعدازاں ظلم کا شکار ہوتی رہی۔فرشتہ کی لاش لاپتہ ہونے کے 5 روز بعد مسخ شدہ حالت میں جنگل سے برآمدہوئی تو اہل خانہ پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو یہاں بھی صارفین نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔فرشتہ کی لاش دیکھ کر واضح ہوا کہ اسے کس قدر درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔سوشل میڈیا پر ” جسٹس فار فرشتہ ” کے نام سے مہم بھی چل پڑی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر دل بہت افسردہ ہے،

معصوم بچی کو پہلے اغوا کیا گیا پھر زیادتی کا نشانہ بنا کر لاش کو مسخ کر کے پھینک دیاگیا،صارف نے فرشتہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ایک صارف نے کہا کہ اس ظلم کا خاتمہ کب ہو گا؟۔لوگ اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں؟۔آخر مجرموں کو سرعام پھانسی دے کر عربت کا نشان کیوں نہیں بنایا جاتا؟۔ایک صارف نے کہا کہ فرشتہ کو انصاف دلوانے کے لیے اپنی آواز اٹھاؤ۔ایک صارف نے کہا معاف کرنا فرشتہ تم پاکستان میں پیدا ہوئی۔تمہیں اپنی زندگی جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک اور قتل،ایک اور لڑکی ہوس کا نشانہ بن گئی میرے پاس بیان کرنے کو الفاظ نہیں ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ پتہ نہیں ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔حالیہ رونما ہونے والے زیادتی کے کیسز خطرناک صورتحال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔مجرموں کو کڑی سزا دینے کی ضرورت ہے لیکن انہیں سزا کون دے گا کیونکہ یہ تو طاقتور اور دولت مند ہیں،ایک صارف نے کہا کہ بطور قوم ہم بیٹیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے۔خالص لوگوں کی دھرتی پاکستان اب جانوروں کی سرزمین بنتی جا رہی ہے۔لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام سزا دینی چاہئیے۔۔اس کے علاوہ اب تک ٹویٹر پر #JusticeForFarishta سے ہزاروں ٹویٹس کیے جا چکے ہیں جس میں واقعے میں ملوث ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings