Advertisement

غربت کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے اس ملک میں پنجاب کی معروف شخصیت کی بیوی کی ایک گھنٹے میں 35 لاکھ کی شاپنگ

Advertisements

 معروف صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ پنجاب کی ایک بڑی شخصیت کی بیوی نے ایک گھنٹے میں 35لاکھ کی شاپنگ کر ڈالی۔جس پر پروگرام میں موجود صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ ایک بڑی شخصیت کی بیٹی نے لندن کے سٹورسے 70 لاکھ کی بھی شاپنگ کی تھی،اور اس نے یہ شاپنگ آدھے گھنٹے میں کی تھی،مذکورہ خاتون نے 55 لاکھ کا ایک بیگ خریدا تھا۔ عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی مہیا نہیں ہے اور یہ لوگ آدھے گھنٹے میں لاکھوں روپے کی شاپنگ کر ڈالتے ہیں۔ان لوگوں کو غریب عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔جب کہ دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے شہباز شریف کی ایک اور شادی سے پردہ اٹھایا ہے

انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کلثوم حئی جو کہ ایک بہت اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جب وہ سیکرٹریٹ میں تھیں تو ان کی پروموشن کی گئی تھی اور ان کی پاور میں بھی کافی اضافہ کیا گیا تھا کہ وہ کئی سینئر افسران کو گھنٹوں اپنے آفس کے باہر بٹھائے رکھتی تھیں۔ پھر اچانک وہ منظر سے غائب ہو گئیں ۔ان کی سرکاری نوکری کے دوران ہی شہباز شریف سے ان کی شادی کی خبریں سامنے آتی رہیں مگر ان خبروں کی ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اب میرے پاس ایک گواہ ہے جس نے کہا کہ اس نے شہباز شریف اور کلثوم حئی کی شادی کے نکاح نامے پر دستخط کیے ہیں۔ سئنیر صحافی نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں نے کلثوم حئی سے جب شادی سے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے تردید کرنے کی بجائے کہا کہ آپ اس وقت یہ خبر اس لیے بریک کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ شہباز شریف پاکستان واپس نہ آئے۔ان کے ذہن میں عوام اور میڈیا کی طرف سے آنے والی تنقید کے وسوسے پید اہوں اور وہ لندن میں ہی رہ جائیں۔تاہم چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ شادی کرنا کوئی بری بات نہیں مگر چھپانا بھی درست نہیں ہے۔انہوںنے اپنی مرضی سے شادی کی ہے

تو اس خوشی کی خبر میں عوام کو بھی شامل کرتے ہوئے سب کے سامنے اپنی شادی کا اظہار کر لینا چاہیے۔ واضح رہے گزشتہ چند ماہ سے مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد بہت سی ادویات اب غریب عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ تبدیلی سرکار نے عوام کو مہنگائی کے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی کی حالیہ لہر کے بعد سے حکومتی وزراء خاموش ہیں۔ جب سبزیوں ، پھلوں اور چکن کی قیمتیں کم تھیں تو حکومتی وزراء کم قیمتوں کا کریڈٹ لیتے تھکتے نہیں تھے مگر جیسے ہی مہنگائی کے اژدھے نے سر اٹھایا ہے تو حکومتی وزراء خاموش نظر آتے ہیں۔کیا کوئی حکومتی ذمہ دار ادویات ساز کمپنیوں اور در آمد کنندگان سے یہ پوچھنے کی جسارت کرے گا کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر ادویات کی قیمتوں میں 100فیصد سے لے کر ڈھائی سو فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔50روپے والی گولی کی قیمت اب 100روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ لیکن یہاں تو غریب عوام کوئی پرسان حال نہیں ،کوئی ان سے پوچھبے والا نہیں ۔ مرتے تو صرف غریب ہی ہیں۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings