Advertisement

سعودی عرب میں خادمہ کو کئی سال تنخواہ نہ ملی، پھر بالآخر حکومت نے تنخواہیں دلوائیں تو اس رقم کے ساتھ کیا کیا؟ جان کر آپ اس کے جذبے پر دنگ رہ جائیں گے، ایسا کام کردیا کہ پوری دنیا داد دینے پر مجبور ہوگئی

Advertisements

سالہا سال تک کسی مزدور سے اجرت دئیے بغیر کام لیا جائے اور پھر ایک دن اچانک اسے تمام اجرت مل جائے تو سوچئے اس کی خوشی کا کیا عالم ہو گا۔ اس خوشی میں مشکل ہے کہ اسے اپنے علاوہ کسی اور کی خبر ہو لیکن سعودی عرب میں چھ سال بعد تنخواہ پانے والی ایک نیپالی ملازمہ نے بالآخر اپنی اجرت ملنے پر پہلا کام ہی ایسا کر دیا کہ ہر کسی کی آنکھ نم کر دی۔

سعودی گزٹ کے مطابق گنگنا مایا نامی یہ خاتون 2008 میں گھریلو ملازمہ کے طور پر سعودی عرب لائی گئی تھی۔ اس کا کفیل پہلے تو اسے تھوڑی بہت تنخوہ دیتا رہا لیکن پھر بالکل ہی کچھ دینا بند کر دیا۔ اس نے گنگنا مایا کا فون بھی چھین لیا اور دس سال کی ملازمت کے دوران اسے ایک بار بھی گھر نہیں جانے دیا۔ حال ہی میں جب کفیل اس کے پاسپورٹ کی تجدید کے لئے اسے نیپالی قونصل خانے لے کر گیا تو ایک اہلکار نے حیرت کے ساتھ خاتون سے پوچھا کہ وہ گزشتہ دس سال کے دوران ایک بار بھی نیپال نہیں گئی اور اس کی وجہ جاننا چاہی۔ اس موقع پر گنگنا مایا پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اپنی حالت زار اس اہلکار کے سامنے بیان کر دی۔ اس مظلوم خادمہ پر ہونے والے ظلم کے متعلق جان کر نیپالی قونصل خانہ حرکت میں آ گیا اور اس کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ قونصل خانے کی کوششوں سے ہی اس کے کفیل نے روکی ہوئی تمام اجرت بھی ادا کر دی۔ یہ رقم ملتے ہی گنگنا مایا نے بتایا کہ اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کچھ خیرات کرے لہٰذا وہ سب سے پہلے اپنی دو ماہ کی تنخواہ بطور خیرات کسی ضرورتمند کو دینا چاہتی ہے۔سالہا سال سے ظلم سہنے والی اس خاتون کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر اس کی مدد کرنے والے والے بھی آبدیدہ ہو گئے بیچاری خاتون کو آخرکار اس کی محنت کا صلہ تو مل گیا ہے لیکن پیچھے نیپال میں اس کا والد اور خاوند اس کی راہ تکتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ زلزلے میں اس کا گھر بھی تباہ ہو چکا ہے اور اب ایک بے سہارا بیٹی اس کی منتطر ہے۔ باہمت خاتون کا کہنا تھا کہ وہ نیپال جا کر اپنا گھر دوبارہ بنائے گی اور اپنی بیٹی کی شادی کر کے شان کے ساتھ اسے رخصت کرے گی۔

سعودی گزٹ کے مطابق گنگنا مایا نامی یہ خاتون 2008 میں گھریلو ملازمہ کے طور پر سعودی عرب لائی گئی تھی۔ اس کا کفیل پہلے تو اسے تھوڑی بہت تنخوہ دیتا رہا لیکن پھر بالکل ہی کچھ دینا بند کر دیا۔ اس نے گنگنا مایا کا فون بھی چھین لیا اور دس سال کی ملازمت کے دوران اسے ایک بار بھی گھر نہیں جانے دیا۔ حال ہی میں جب کفیل اس کے پاسپورٹ کی تجدید کے لئے اسے نیپالی قونصل خانے لے کر گیا تو ایک اہلکار نے حیرت کے ساتھ خاتون سے پوچھا کہ وہ گزشتہ دس سال کے دوران ایک بار بھی نیپال نہیں گئی اور اس کی وجہ جاننا چاہی۔ اس موقع پر گنگنا مایا پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اپنی حالت زار اس اہلکار کے سامنے بیان کر دی۔ اس مظلوم خادمہ پر ہونے والے ظلم کے متعلق جان کر نیپالی قونصل خانہ حرکت میں آ گیا اور اس کی مدد کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ قونصل خانے کی کوششوں سے ہی اس کے کفیل نے روکی ہوئی تمام اجرت بھی ادا کر دی۔ یہ رقم ملتے ہی گنگنا مایا نے بتایا کہ اس کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کچھ خیرات کرے لہٰذا وہ سب سے پہلے اپنی دو ماہ کی تنخواہ بطور خیرات کسی ضرورتمند کو دینا چاہتی ہے۔سالہا سال سے ظلم سہنے والی اس خاتون کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر اس کی مدد کرنے والے والے بھی آبدیدہ ہو گئے بیچاری خاتون کو آخرکار اس کی محنت کا صلہ تو مل گیا ہے لیکن پیچھے نیپال میں اس کا والد اور خاوند اس کی راہ تکتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ زلزلے میں اس کا گھر بھی تباہ ہو چکا ہے اور اب ایک بے سہارا بیٹی اس کی منتطر ہے۔ باہمت خاتون کا کہنا تھا کہ وہ نیپال جا کر اپنا گھر دوبارہ بنائے گی اور اپنی بیٹی کی شادی کر کے شان کے ساتھ اسے رخصت کرے گی۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk