Advertisement

روزے کے چھ آداب ہر مسلمان ایک بار یہ آداب ضرور پڑھ لے تاکہ ہرمسلمان بھائی کا روزہ پاکیزہ رہے؟

Advertisements

1۔نگاہ کا روزہ:

پہلا ادب یہ ہے کہ نظر نیچی رکھو۔ جن چیزوں کی طرف نگاہ ڈالنا اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے، ان کی طرف نگاہ کو نہ جانے دو۔ جن چیزوں کو دیکھنے سے دل بھٹکتا ہو اور اللہ کی یاد غفلت طاری ہوتی ہو، ان کو نہ دیکھو۔
رسول ﷺ نے فرمایا، نظر ڈالنا(ایسی چیزوں پر جن سے اللہ نے روکا ہے) شیطان کے تیروں میں ایک زہر میں بجھا ہوا تیر ہے۔ جو کوئی اللہ کے خوف سے نگاہ بد سے رک جائے، اللہ تعالیٰ اس کے دل مین ایمان کی حلاوت کا مزا عطا کرے گا۔ حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا، پانچ چیزیں ایسی ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک جھوٹ، دوسرے غیبت،تیسرے چغلی، چوتھے جھوٹی قسم، اور پانچویں شہوت کی نظر۔
2۔زبان کا روزہ :
دوسرا ادب یہ ہے کہ زبان سے بے ہودہ بات نہ کرو، جھوٹ نہ بولو،غیبت نہ کرو، چغلی نہ کھاؤ،فحش گفتگو نہ کرو، ظلم کی بات نہ کرو،جھگڑا نہ کرو، بات نہ کاٹو۔ زبان کا روزہ یہ ہے کہ خاموش رہے، ان گناہوں سے بچے،اور اسے اللہ کی یاد اور تلاوت قرآن میں مشغول رکھے۔
سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا کہ دو چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:ایک غیبت،دوسرے جھوٹ۔ رسولﷺ نے فرمایا، روزہ ڈھال ہے۔(گناہوں سے بچاؤ کے لیے) تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش بکے، نہ بدکاری اور فضول گوئی کرے،نہ چیخے چلائے ،اور اگر کوئی گالی دے یا لڑنے پر اتر آئے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
3۔کان کا روزہ :

تیسرا ادب یہ ہے کہ کانوں کو بری بات سننے سے روکو۔ اس لیے کہ جن باتوں کا زبان سے نکالنا حرام ہے، ان کا سننا بھی حرام ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کانوں سے جھوٹ سننے والوں اور حرام کا مال کھانے والوں کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا ہے۔ (المائدہ ۵:۴۲) یہ کان لگا کر جھوٹ سننے والے ،اور حرام کا مال کھانے والے۔اسی طرح اس نے یہ بھی ارشاد فرمایا،(المائدہ۵:۶۳)کیوں ان کے علما اور مشائخ انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ۔
غیبت سننا اور خاموش رہنا بھی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر تو تم بھی انھیں کی طرح ہوئے۔ اسی لیے رسولؐ اللہ نے فرمایا،غیبت کرنے والا اور سننے والا، دونوں گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔

4۔اعضا کا روزہ:

چوتھا ادب یہ ہے کہ ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضا کو گناہوں سے روکو، اور افطار کے وقت ایسے کھانے سے بچو جس کے بارے میں حرام ہونے کا شبہ بھی ہو۔ اگر دن بھر تو وہ کھانا بھی نہ کھاؤ جو حلال ہے،اور افطار حرام کھانے سے کرو،تو کیا روزہ ہوا؟ ایسے روزہ دار کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص محل تعمیر کرے، مگر پورے شہر کو منہدم کر دے۔ اگر ضرورت سے زیادہ کھایا جائے تو حلال کھانا بھی روح کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اسی لیے روزہ کھانا کم کرنے کی تربیت کرتا ہے۔ وہ بہت بے وقوف ہو گا جو دوا تو زیادہ نہ کھائے کہ ضرر سے بچے،لیکن زہر کھالے۔ حرام کھانا زہر ہے جو دین کو برباد کرتا ہے، حلال کھانا ایک دوا کی طرح ہے جس کا کم کھانا مفید ہے اور زیادہ کھانا مضر۔
رسول ﷺ نے فرمایا، کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ بعض کہتے ہیں یہ وہ روزہ دار ہے جو حرام کھانے سے روزہ افطار کرے۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو روزے کے دوران طعام حلال سے تورکار ہے، لیکن لوگوں کا گوشت کھاتا رہے،یعنی غیبت کرتا رہے جو حرام ہے۔ اور بعض کی رائے یہ ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اپنے اعضا کو گناہ سے نہ بچائے۔
5۔رزق حلال:

پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت حلال کھانا بھی کم ہی کھاؤ۔ اتنا کھاؤ کہ پیٹ پھول جائے۔ اس لیے کہ اللہ کے نزدیک حلق تک بھرے ہوئے پیٹ سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی بھر جانے والی چیز نہیں، اگرچہ کھانا حلال ہو۔ شیطان پر غالب آنے اور شہوت کا زور توڑنے میں روزے سے کیا مدد ملے گی، اگر روزہ دار افطار کے وقت دن بھر کی بھوک پیاس کی تلافی کر دے اور ایک وقت میں اتنا کھا لے جتنا دن بھر میں کھاتا تھا۔ افطار کے وقت کھانے کی انواع و اقسام زیادہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ رمضان کے دنوں میں اچھے اور نفیس کھانے اتنے زیادہ کھا جاتے ہیں کہ اور دنوں میں کئی مہینے بھی نہ کھائیں۔
ظاہر ہے کہ روزے کا مقصود تو خالی پیٹ رہنا اور خواہش نفس کو قابو میں رکھنا ہے، تاکہ نفس میں تقویٰ پیدا ہو۔ اب اگر کوئی صبح سے شام تک تو معدہ خالی رکھے، پھر لذیذ کھانوں سے خوب پیٹ بھر لے،تو نفس کی خواہشات اور لذتیں دو بالا ہو جائیں گی، اور ایسی خواہشات بھی بیدار ہو جائیں گی جو روزہ نہ رکھتا تو نہ ابھرتیں۔ بہتر یہ ہے کہ رات کو بھی اپنا پیٹ اتنا خالی رکھے کہ تہجد اور دیگر وظائف میں آسانی ہو، شیطان دل کے پاس نہ آنے پائے، اور عالم ملکوت کے دیدار سے فیض یاب ہو سکے ۔ اگرچہ صرف پیٹ کا خالی رکھنا بھی کافی نہ ہو گا، جب تک وہ اپنی فکر اور ارادہ کو اللہ کے علاوہ ہرمقصود سے خالی نہ کر لے۔
6خوف ورجا:

چھٹا ادب یہ ہے کہ روزہ افطار کرنے کے بعد خوف ورجا کی کیفیت طاری ہو۔ امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کا روزہ قبول فرمائے گا اور اسے مقربین میں شامل کرے گا۔ ساتھ ہی ڈرے کہ شاید اس کا روزہ قبول نہ کیا جائے اور وہ اللہ کے غضب کا مستحق ٹھیرے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عبادت سے فارغ ہونے کے بعد یہی کیفیت ہونا چاہیے۔
یہ روزے کے وہ چھ آداب ہیں جن کو ملحوظ رکھنے ہی سے روزہ حقیقی معنوں میں صحیح ہوتا ہے۔ ابودرداءؓ کہتے ہیں کہ عقل مند آدمی کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی خوب ہے، اور بے وقوف آدمی کا روزہ رکھنا اور جاگنا بھی برا ہے! کہا گیا ہے کہ یقین اور تقویٰ کے ساتھ ذرہ برابر عبادت ،غلط کاریوں کے ساتھ کی ہوئی پہاڑ کے برابر عبادت سے افضل ہے۔ بعض علمانے کہا ہے کہ بہت سے روزہ دار درحقیقت بے روزہ ہوتے ہیں، اور بہت سے بے روزہ، روزہ دار۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کھاتے پیتے تو ہیں مگر اپنے اعضا کو گناہوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اور روزہ دار بے روزہ وہ ہیں جو کھانے پینے سے تو رک جاتے ہیں، لیکن اپنے اعضا کو گناہوں سے نہیں روکتے۔
رسولﷺ نے فرمایا ہے،روزہ ایک امانت ہے،ہر ایک کو اپنی امانت کی حفاظت کرنا چاہیے۔ جب آپؐ نے یہ آیت پڑھی کہ،(النساء۴:۵۸)اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، تو اپنے دست مبارک کو اپنے کان اور آنکھ پر رکھا،اور فرمایا کہ کان سے سننا اور آنکھ سے دیکھنا بھی امانت ہے۔

رمضان المبارک کے عشروں کی دعائیں
رحمت کا عشرہ
ترجمہ:اے زندہ وقائم رہنے والے !میں تیری رحمت کے ساتھ فریاد طلب کرتا ہوں۔
مغفرت کا عشرہ
ترجمہ: اے اللہ!تو بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے۔
جہنم سے آزادی کا عشرہ

ترجمہ : اے اللہ مجھے جہنم کی آگ سے بچالے۔
طاق راتوں کی دعا
ترجمہ: اے اللہ تو کریم اور درگزر کرنے والا ہے۔ تو معافی کو پسند فرماتا ہے ۔پس مجھے معاف کر دے۔

Advertisement

Source Dailypakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings