Advertisement

رات کو جب بھی آنکھ کھل جائے تو یہ دعا پڑھ کر دعا کرنا

Advertisements

دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسولۖ سے عر ض کیا ۔کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پڑیشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرم ۖ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں جائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنڑول کرنا ہے ۔

لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنڑول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا۔ عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ۖ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورة اخلاص پڑھو پھر تین مرتبہ سورة فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورة الناس پڑھومطلب تینوں سورة ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ۖ نے فرما اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورة اخلاص سورة فلک اور سورة الناس کو تین تین بار پڑھا کرویہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے ۔ اگر آپ رات کو دوران نیند جاگ جائیں تو آپ ۖ نے فرمایا تو اس وقت دعا پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا کریں گے وہ پوری ہو گی انشا ء اللہ جو دعا پڑھنی ہے اگر بات اچھی لگے تو لازمی شیئر کریں شکریہ
جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل
سوال: اگر میاں بیوی جنبی ہوں تو سونے سے قبل غسل لازمی ہے یا صرف وضو ہی کافی ہے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جواب: میاں بیوی اگر جنبی (ہم بستری کے بعد)ہوں تو ان کو سونے سے پہلے وضو کرلینا چاہیے،اس مسئلہ میں رہنمائی کے لئے کئی احادیث موجود ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:”نبی کریم ﷺ جب حالت جنابت میں کھانا کھاتےیا سونے کا ارادہ فرماتے تو مقام پردہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو فرمالیتے۔” (صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم ۔ صحیح ابوعوانہ ۔ صحیح سنن ابی داؤد: 218) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے

روایت ہے:”بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم میں سے کوئی حالت جنابت میں سو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں جب وہ وضو کر لے۔” ایک اور روایت میں ہے:”وضو کر،اپنی شرم گاہ کو دھو اور پھر سوجا۔ اور ایک روایت میں ہے:”ہاں اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے ،پھر سوئے اور جب چاہے غسل کرلے۔” ایک اور روایت میں ہے:” ہاں اگر وہ چاہے تو وضو کر لے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم ،ابن عساکر: 2/223/13۔ دوسر ی روایت صحیح ابو داؤد:217 تیسری روایت صحیح مسلم،ابی عوانہ اور سنن بیہقی: 210/1 ۔ آخری روایت صحیح ابن خزیمہ۔ صحیح ابن حبان۔ تلخیص: 156/2میں ہے ،یہ روایت وضو کے واجب نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔جمہور علماء کے نزدیک وضو واجب نہیں ہے) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “فرشتے تین آدمیوں کی طرف نہیں جاتے۔کافر کی لاش،اور جس نے زعفران ملی خوشبو لگائی ہواور جنبی آسمی جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے۔”
(ابو داؤد)

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings