Advertisement

کیا آئی ایم ایف نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں لگانے کی شرط رکھ دی ہے ؟

Advertisements

کیا آئی ایم ایف نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں لگانے کی شرط رکھ دی ہے ؟عاصمہ شیرازی کے سوال پر اسد عمر نے ایسی بات کہہ دی کہ پورے پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ، بڑی خبر آگئی پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر پابندیاں، آئی ایم ایف نے کیا شرائط رکھی ہیں؟عاصمہ شیرازی کے سوال پر اسد عمر نے انکشاف کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں معروف اینکر عاصمہ شیرازی نے وزیر خزانہ اسد عمر سے سوال کیا کہ کیا آئی ایم ایف نے قرضے کے حصول کیلئے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام پر

پابندیاں عائد کئے جانے کی بات کی ہے ، کیا یہ بات سچ ہے جس پر وزیر خزانہ اسد عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ اب تو آئی ایم ایف ٹیم پاکستان آچکی ہے سب پتہ چل جائیگا تاہم میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ آئی ایم ایف معیشت سے باہر کسی قسم کی کوئی بات نہیں کریگا۔ یہ بات ایسے ہو سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے شیئر ہولڈرز میں سے کوئی ملک یہ بات کرے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کو قرضے کے حوالے سے آخر میں بورڈ نے فیصلہ کرنا ہے اور آئی ایم ایف بورڈ کے ممبرز تو اس قسم کے معاملات اٹھا سکتے ہیں۔ ابھی تک نہیں اٹھائے تاہم اٹھا سکتے ہیں۔ مگر میرے خیال میں آئی ایم ایف براہ راست ایسی بات نہیں کریگا۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کا کہناہے کہ چین نے پاکستانی حکومت کو امداد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی مدد کی ہے، چین کتنی مدد دے رہا ہے ظاہر نہیں کر سکتے، دراصل چین نے پاکستان کو نقد مالی مدد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے، کیونکہ اس سے چین کے یدگر پارٹنرز تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آ کر حیران کن گھپلوں کا معلوم ہوا، اور میڈیا رپورٹس میں آنے والی کرپشن کم لگتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن پر آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے، ابھی بڑی مچھلیاں باقی ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے دیئے گئے دھرنے اور مظاہروں کو مصالحتی انداز میں ہی حل کر سکتے تھے، دھرنے میں پیسے دے کر لوگوں کو لایا گیا اور اگر دھرنا ختم نہ ہوتا تو حکومتیں ختم ہو سکتی تھیں۔عمران خان نے اراکین کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں منظم ہو کر چلیں، اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجازت کے بغیر ایوان میں تقریر نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ دو ماہ تک ایوان میں نہیں آ سکتا چیلنجز کا سامنا ہے لیکن دو ماہ بعد ایوان میں تواتر سے آیا کروں گا۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings