”عاقب جاوید بدترین کوچ ہیں اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔“ پی ایس ایل 3 میں لاہور قلندرز کے فیلڈنگ کوچ عتیق زمان نے ہیڈ کوچ اور برینڈن میکالم پر سنگین الزامات عائد کر دئیے

HomeLatest Updates

”عاقب جاوید بدترین کوچ ہیں اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔“ پی ایس ایل 3 میں لاہور قلندرز کے فیلڈنگ کوچ عتیق زمان نے ہیڈ کوچ اور برینڈن میکالم پر سنگین الزامات عائد کر دئیے

 پاکستان کے سابق کرکٹر عتیق زمان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید اور سابق کپتان برینڈن میکالم پر سنگین ال

وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیکج، تعمیراتی شعبے کے لئے بڑا اعلان
پاکستانیوں کی وہ ایک عام سی عادت جس سے کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے ، ڈاکٹر زنے خبردار کر دیا
ملک بھر کے تھری اور فور سٹار ہوٹلز کو خالی کرواکر قرنطینہ مراکز میں تبدیل کرنے کی تیاریاں

 پاکستان کے سابق کرکٹر عتیق زمان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید اور سابق کپتان برینڈن میکالم پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عتیق زمان پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں لاہور قلندرز کے فیلڈنگ کوچ، عاقب جاوید ہیڈ کوچ، پاکستان کے مایہ ناز سابق کپتان انضمام الحق بیٹنگ کنسلٹنٹ، سابق ٹیسٹ کرکٹرز کبیر خان باﺅلنگ کوچ اور نیوزی لینڈ کے کائل ملز ٹیم کے ٹیکنیکل اور ٹیکٹیکل ایڈوائزر تھے۔ عتیق زمان نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں عاقب جاوید پر بطور ہیڈ کوچ ذمہ داریوں سے کترانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ”میرے خیال سے عاقب جاوید اس صدی کے سب سے بدترین کوچ ہیں۔

جیتے ہوئے تین میچز ہارنے کے بعد بھی انہوں نے کارکردگی کا کوئی جائزہ نہیں لیا۔ وہ اس حوالے سے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے تھے کہ کون اوپننگ کرے گا اور باﺅلنگ اٹیک کون سنبھالے گا ، لاہور قلندرز میں کلب لیول کا سیٹ اپ قائم کیا گیا تھا اور عاقب جاوید اپنے موڈ کے مطابق کھلاڑیوں کو میدان میں بھیجتے تھے، وہ سٹریٹجک ٹائم آﺅٹ کے دوران بھی کبھی گراﺅنڈ میں نہیں گئے اور ہمیشہ کوچنگ عملے کے دیگر اراکین کو بھیجتے تھے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”برینڈن میکالم نے کبھی ٹیم میٹنگز میں شرکت نہیں کی تھی اور کائل ملز ان کیلئے پیغام رسانی کا کام کرتے تھے اور میٹنگز کے بعد انہیں تفصیلات فراہم کرتے تھے۔ میں نے ایک میٹنگ میں کہا کہ جب آخری اوور میں سات رنز درکار تھے اور دو وکٹیں باقی تھیں تو میکالم نے سنگل کیوں لی ، حالانکہ میں نے ایمانداری سے اپنی رائے دی لیکن اس کے بعد مجھے ہوٹل تک محدود کر دیا گیا۔“ ان کا کہنا تھا ”عاقب جاوید وہی کچھ کر رہے تھے جو میکالم ان سے کرنے کیلئے کہتے تھے۔ اسی طرح کبیر خان نے جب مخالف ٹیم کی جانب سے میکالم کا کیچ چھوٹنے پر ردعمل دیا، تو مخالف ٹیم کی حمایت کا الزام لگا کر انہیں بھی میدان میں جانے سے روک دیا گیا۔“

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0