Advertisement

وزیر اعظم عمران خان سے نواز شریف سے متعلق سوال!! وزیر اعظم کا ایسا جواب سارا معاملہ ہی نمٹا دیا

Advertisements

معروف صحافی کامران شاہد کا کہنا ہے کہ عمران خان نے نیا پاکستان بنانے کے لیے ایک نئی سیاست کو ترویج دی ہے۔اور وہ نئی سیاست ان کے یو ٹرن پر مبنی ہے جب یو ٹرن لینا ان کے منشور کا حصہ ہے تو پھر وہ کسی بھی بات پر یو ٹرن لے سکتے ہیں۔عمران خان نے انٹرویو کے دوران بہت ساری باتوں کے جواب نہیں دئیے اور اس کو دفاع یو ٹرن سے کیا۔
ہم نے ان سے نواز شریف سے متعلق سوال کیا کہ اور مشرف کے ٹرائل کو لے کر ان سے سوال کیا تو عمران خان نے کہا کہ یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں پھر ہم نے ان سے اتحادیوں سےمتعلق سوال کیا کہ آپ متحدہ قومی مومنٹ کے بہت خلاف تھے اور آپ مسلم لیگ ق کے بھی خلاف تھے لیکن اب آپ ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔حالانکہ عمران خان اتنا تو مسلم لیگ ن کے خلاف بھی نہیں تھےجتنا ایم کیو ایم کے خلاف تھے۔
تو ایسے کئی سوالات کے جوابات عمران خان نے نہیں دئیے۔خیال رہے گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے پیر کو اسلام آباد میں سینئر صحافیوں اور اینکرز سے ملاقات کے دوران کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کے لئے حکومت سخت قوانین لانے کے لئے کام کر رہی ہے اور بڑے بڑے لوگوں کو اس وقت ڈر ہے کہ ان کے نام بھی سامنے ا ٓنے والے ہیں ۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو افسران گوسلو پالیسی کے تحت کام کرنے والے افسران کی بھی حوصلہ شکنی کرے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین نہیں بنائیں گے اگر اپوزیشن ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے انہوں نے کہا کہ ڈالر کے بڑھنے یا کم ہونے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ہمیں تباہ حال معیشت ملی تھی اور اس کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں سابقہ حکومت انیس ارب کا خصارہ چھوڑ کر گئی جسکی وجہ سے روپے کی قدر میںکمی ہوئی ، سابقہ حکومت مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کیلئے سات ارب ڈالر خرچ کیے۔
ہم یہ غلطی نہیں دھرائیں گے کیونکہ معیشت میں بہتری آنے سے ہی روپے کی قدر میںبہتری ممکن ہے۔ اور مصنوعی طریقے کی بجائے برآمدات میں اضافہ کرکے اوورسیز پاکستانیوںکی ترسیلات زر اور عالمی اداروں کی سرمایہ کاری سے ڈالر کی طلب اور رسدکا توازن قائم ہوسکے گا چین سمیت دیگر تمام ممالک نے بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کی ، ملکی تاریخ میں کسی کو ایسے حالا ت نہیں ملے قوم فیصلہ کرے کہ ہم نے کرپشن کے نظام کو اسی طرح چلنے دینا ہے یا مستقل طور پر چھٹکارہ حاصل کرناہے۔
زندگی میںکبھی اتنیمحنت نہیں کی جتنی ان سو دنوں میں کررہے ہیں۔ اداروں کو پیشہ ورانہ مہارت سے چلا کر خسارے سے نکالیں گے۔ جس طرح بابر اعوان نے ریفرنس دائر ہونے پر از خود استعفیٰ دیا اگر اعظم سواتی قصور وار ٹھہرائے گئے تو وہ بھی خود ہی مستعفی ہوجائیںگی اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ کبھی کسی ادارے کے کام میں مداخلت کا نہیں سوچا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings