Advertisement

توہین عدالت نہیں بنتی،کیوں نہ جرمانہ کردیا جائے؟لاہور ہائیکورٹ

Advertisements

لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حناپرویز بٹ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی، عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ توہین عدالت نہیں بنتی،کیوں نہ جرمانہ کردیاجائے؟۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ن لیگ کی ایم پی اے حنا پرویز بٹ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جسٹس شاہدوحید نے درخواست پرسماعت کی،حناپرویزبٹ پراعلیٰ عدلیہ کومتنازعہ بنانے کاالزام ہے،عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیکر مستردکردی ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت نہیں بنتی،کیوں نہ جرمانہ کردیاجائے؟۔

نواز شریف کی سزا میں کمی ۔۔7سال کی بجائے اب صرف کتنی سی سزا کاٹنی ہوگی ؟ لیگی کارکنوں کیلئے خوشی کی خبر ۔۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں جہاں وہ احتساب عدالت سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں پانے والی سزا کاٹ رہے ہیں۔ نواز شریف کو احتساب عدالت نے سات سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن نواز شریف کی سزا میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جیل میں اگر نواز شریف کا رویہ اچھا رہا تو میاں نواز شریف کی سزا کم ہو جائے گی اور وہ سات سال کی بجائے سوا چار

سال بعد ہی جیل سے باہر آجائیں گے۔ اچھا چال چلن اور کام پر توجہ دینے سے نواز شریف کی سزا پونے تین سال کم ہو سکتی ہے۔ اپنا کمرہ صاف کرنے پر نواز شریف کو ایک ماہ میں آٹھ دن کی معافی ملے گی۔ قیدیوں کو پڑھانے میں بھی ایک ماہ میں آٹھ دن کی سزا معاف ہو سکتی ہے۔ کپڑے دھونے، بال کاٹنے یا فیکٹری میں کام کرنے پر بھی جیل قوانین کے مطابق ایک ماہ میں چھ دن کی معافی ملتی ہے۔ اچھے چال چلن، سیکرٹری داخلہ ، آئی جی جیل اور سپریٹنڈنٹ کی شفقت سے ان کی سزا میں پونے تین سال کی کمی ہو سکتی ہے۔ نواز شریف کو جیل میں صفائی ستھرائی کا کام سونپا گیا ہے جس پر انہیں ہر ماہ آٹھ روز کی معافی ملے گی۔ اگر پورا سال قیدی کے خلاف سپریٹنڈنٹ کو کوئی شکایت نہ ملے تو پہلے سال پندرہ روز، دوسری سال پندرہ روز اور تیسرے سال پینتالیس روز کی معافی ملتی ہے۔ جیل قوانین کے مطابق اچھے چال چلن والے قیدیوں کو سپریٹنڈنٹ جیل ایک ماہ،آئی جی جیل دو ماہ اور ہوم سیکرٹری دو ماہ کی معافی دے سکتے ہیں۔ حکومت عید اور دیگر تہواروں پر قیدیوں کو تیس روز کی معافی دیتی ہے۔ اگر جیل سپریٹنڈنٹ سابق وزیراعظم نواز شریف پر شفقت کرے تو اچھے کردار اور دلجوئی سے کام کرنے پر سات سال میں سے پونے تین سال کی سزا معافی مل سکتی ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف سوا چار سال کی جیل کاٹ کر رہا ہو سکتے ہیں۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings