Advertisement

وزیر اعظم ہو تو ایسا ‘‘ عمران خان اپنی بہن علیمہ خان کو سزا کی صورت میں نہیں بچائیں گے

Advertisements

 وزیراعظم اپنی بہن علیمہ خان کو سزا کی صورت میں نہیں بچائیں گے باقی بہنوں کیساتھ بھی تعلقات خراب ہو گئے، خونی رشتوں میں دراڑ کیسے پڑا؟انتہائی اہم خبر آگئی۔۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان سزا ہونے کی صورت میں اپنی بہن علیمہ خان کو نہیں بچائیں گے، وزیراعظم اور ان کی چاروں بہنوں کے درمیان تعلقات مثالی نہیں ہیں، زمان پارک کا گھر گرانے کے بعد سے دوریاں مزید بڑھ چکی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کی جانب سے تحریر کیے گئے تازہ ترین کالم میں دلچسپ انکشافات کیے گئے ہیں


سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بڑی بہن لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھیں اور پھر زندگی بھر اقوام متحدہ میں نوکری کی۔ اب پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہی ہیں۔ بڑی اور درویش صفت ہونے کے ناطے خاندان میں رعب داب بھی رکھتی ہیں۔ علیمہ خان نے لمز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا بعدازاں ایک سہیلی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا بزنس شروع کیا جو بہت چمکا سہیلی سے شراکت ختم ہوگئی لیکن کاروبار چلتا رہا۔کاروبار کے دور عروج میں انہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بھی ٹھیکے ملے اور یوں انہیں کامیاب کاروباری خاتون کہا جاسکتا ہے۔ اب ان کے بزنس میں ان کے دونوں بیٹے شاہ ریز اور شیر شاہ بھی شریک کار ہیں۔ اپنے اس بزنس کے حوالے سے ان کا بیرون ملک بھی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ دبئی کا یہ فلیٹ اسی زمانے میں خریدا گیا جب وہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کا بزنس کر رہی تھیں۔ خاندان میں روبینہ کو احترام حاصل ہے تو علیمہ خان کا غصہ مشہور ہے۔ وہ اکثر اپنے موقف کا اظہار جارحانہ انداز میں کرتی ہیں۔ بشریٰ وٹو سے شادی سے پہلے ہی مشترکہ خاندانی نظام تو ختم ہو چکا تھا مگر زمان پارک کی شکل میں مشترکہ خاندانی گھر بہرحال موجود تھا۔ اس گھر کا انتظام و انصرام عمران خان کی بہن نورین (رانی)خان کے سپرد تھا۔جن کی شادی چچا زاد انجینیئر حفیظ اللہ نیازی سے ہوئی وہ اپنے بیمار والد کی دیکھ بھال اور مشترکہ گھر کی نگہبانی کے لیے اسی گھر میں مقیم رہیں۔


2013ء میں حفیظ اللہ نیازی کے عمران خان سے سیاسی اختلافات ہوئے تو حفیظ اللہ الگ گھر میں منتقل ہوئے البتہ ان کے بیوی بچے زمان پارک والے گھر میں ہی مقیم رہے۔ بقول حفیظ اللہ نیازی اس گھر کا خرچ وہ خود ہی چلا تے تھے۔ تاہم تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ زمان پارک والا گھر مسمار کر کے اس پر نئی تعمیر کی جا چکی ہے۔ اب کوئی بہن اس گھر میں نہ رہتی ہے اور نہ آتی جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر عمران خان کے زیرِ استعمال ہے۔ جہاں بشریٰ وٹو لاہور آئیں تو اس گھر کا چکر لگا لیتی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں روایتی طورپر بہنیں بھائیوں پر جان چھڑکتی ہیں بھائی ایک ہو اور بہنیں چار تو محبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بھائی ہیرو اور پھر وزیر اعظم بن جائے تو بہنوں کو اور بھی اچھا لگتا ہے لیکن عمران خان برطانیہ میں طویل قیام کے بعد سے اپنے جذبات کے اظہار میں باقی پاکستانیوں جیسے گرم جوش نہیں۔ اسی لیے علیمہ خان ہو یا کوئی دوسری بہن وہ اس کے لیے اپنے سیاسی کیریئر کو ذرا سی زک بھی نہیں پہنچنے دیں گے۔ وہ شاید یہ تو چاہیں گے کہ بہن علیمہ خان کا کوئی مالی سکینڈل نہ بنے لیکن اگر انھیں کہیں سے سزا سنائی گئی تو عمران خان انھیں بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings