پی آئی اے نے 70 کروڑ روپے کا ٹھیکہ صرف 9 ماہ پہلے بنائی گئی کمپنی کو دے دیا؟ سب سے بڑا سکینڈل منظر عام پر آگیا

HomeLatest Updates

پی آئی اے نے 70 کروڑ روپے کا ٹھیکہ صرف 9 ماہ پہلے بنائی گئی کمپنی کو دے دیا؟ سب سے بڑا سکینڈل منظر عام پر آگیا

 حال ہی میں پی آئی اے کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا کہ قومی ایئرلائنز 8طیاروں میں ’اِن فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹمز‘ (آئی ایف ای)اپ گریڈ کرنے جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے والی کیا یہ واقعی ہی اٹلی میں کورونا وائرس سے مرنے والے افراد کی لاشوں کی ویڈیو ہے ؟ حقیقت سامنے آ گئی
وفاقی وزیرنے سابق وزیراعظم کے ریسٹورنٹ میں کھاناکھانے پردلچسپ تبصرہ کرڈالا
کاشف عباسی کے پروگرام پر ساٹھ روز کی پابندی لیکن بوٹ لانے والے وزیر فیصل واوڈا میڈ یا پر کب تک نہیں آسکیں گے ؟وزیراعظم نے پابندی لگا دی

 حال ہی میں پی آئی اے کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا کہ قومی ایئرلائنز 8طیاروں میں ’اِن فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹمز‘ (آئی ایف ای)اپ گریڈ کرنے جا رہی ہے۔ اب اس خبر کے حوالے سے ایک بڑا سکینڈل منظرعام پر آ گیا ہے۔ ویب سائٹ thenewspaces.com کے مطابق پی آئی اے نے آٹھ 777طیاروں میں آئی ایف ای کی اپ گریڈیشن کا 70کروڑ روپے مالیت کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دے دیا گیا ہے جو کہ محض 9ماہ قبل قائم کی گئی ہے۔اس کمپنی کا نام ’ایوی ایشن ایویونکس‘ (Aviation Avionics)ہے۔ پی آئی اے کی طرف سے اس اپ گریڈیشن کا اعلان جون 2019ءمیں بھی کیا گیا تھا اور پھر ایک پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ دینے کے لیے دو کمپنیوں کو بھی شارٹ لسٹ کر لیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں ’اے اے آر انٹرنیشنل کارپوریشن (سنگاپور)‘ اور ’ایویونک سالوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (پاکستان)‘ تھیں۔

ایویونک سالوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی یہ پاکستانی کمپنی مارچ 2019ءمیں اسلام آباد میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔ گویا اپ گریڈیشن کے پہلے اعلان سے محض 3ماہ پہلے یہ کمپنی قائم ہوئی تھی۔ یہ صورتحال اس اپ گریڈیشن کے معاملے کو مشکوک بنارہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پی آئی اے کی ویب سائٹ پر اس پراجیکٹ کا ’اوپن ٹینڈر‘ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اپ گریڈیشن کا فیصلہ کس نے کیا اور کس بنیاد پر یہ ٹھیکہ اس چند ماہ قبل بنائی گئی کمپنی کو دے دیا گیا۔ سرکاری کمپنی ہونے کے ناتے پی آئی اے کی طرف سے ٹینڈر جاری کرنا لازمی تھا۔ اس کے بعد ہی وہ کسی ایک کمپنی کا انتخاب کرکے اسے ٹھیکہ دے سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پی آئی اے نے 2016ءمیں 5کروڑ ڈالر مالیت کا آئی ایف ای اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ پیناسونک کو دیا تھا جو بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا اور دو سال کے توقف کے بعد وہی ٹھیکہ ایویونک کو دے دیا گیا۔ پیناسونک کے ساتھ ہونے والا کنٹریکٹ کس نے منسوخ کیا اور کیوں کیا، یہ بھی کسی کو معلوم نہیں۔ پیناسونک کے ساتھ ٹھیکہ منسوخ ہونے کا معاملہ اس صورتحال کو مزید مشکوک بنا رہا ہے کیونکہ پیناسونک کے ساتھ کنٹریکٹ منسوخ ہونے کے بعد ایویونک نامی کمپنی قائم کی گئی اور پھر اسے یہ ٹھیکہ دے دیا گیا۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 1