Advertisement

میرے ہاتھ صاف ، بی آر ٹی منصوبے میں ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی،ثابت ہو جائے تو سزا بھگتنے کو تیار ہوں،پرویز خٹک ڈٹ گئے

Advertisements

وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر پشاور بی آر ٹی منصوبے میں ایک روپے کی کرپشن ثابت ہو جائے اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہوں ۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں وزیردفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ میرے اثاثے اور جائیدادیں سب کے سامنے ہیں۔ کوئی بھی انکوائری کمیٹی بناد ی جائے تو اکائونٹس ڈیٹیل دینے کو بھی تیار ہوں،سبھی جانتے ہیں میری بیرون ملک بھی کوئی جائیداد نہیں ہے۔بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر اور بدعنوانوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے ،انہوں نے کہا کہ جب صوبے کا وزیراعلیٰ تھا تو اس وقت یہ منصوبہ شروع کیا ، اس منصوبے میں کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ ملک پاکستان کا وہ واحد منصوبہ ہے جس کے بارے میں دھڑلے سے کہا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے میں کسی سرکاری افسر نے بھی رشوت نہیں لی۔میرے دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں کسی کو رشوت لینے یا ناجائز کام کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔اس لیے یہ منصوبہ بالکل شفاف ہے۔

چونکہ پشاور میں ٹریفک بڑھتی جا رہی ہے اس لیے یہ منصوبہ شہر کی ضرورت ہے اور یہ جلد مکمل ہو گامگر جو لوگ مجھ پر اس منصوبے کے حوالے سے کرپشن کا الزام لگاتے ہیں ان کا اپنا منہ کالا ہو گا اور انہیں شرمندگی کا سامنا بھی کرناپڑے گا کیونکہ میرے ہاتھ صاف ہیں اور میں نے اس پراجیکٹ میں ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی۔

شہبازشریف اور حمزہ شہباز پر فرد جُرم عائد

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اورا ن کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آج احتساب عدالت میں آشیانہ اقبال اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے جب کہ دونوں ملزمان نے فرد جرم سے انکار کر دیا ہے۔

اس موقع پرسابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز جب کہ نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے دلائل دئیے۔نیب پراسیکوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رمضان شوگر ملزم کیس میں مل کے لیے سرکاری خزانہ سے نالا بنایا گیا۔

اختیارا ت سے تجاوز کا کیس ہے تاہم اسی دوران شہباز شریف نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو جج نے انہیں روک دیا۔

اور کہا کہ آپ سب کو سب کچھ سننے اور سنانے کا موقع دیا جائےگا۔یہ قانونی اور پروسیجرل چیزیں ہیں جو قانون کے مطابق ہونی چاہئیے،جس کے بعد شہباز شریف نے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے دس سالوں میں حکومت کے کئی سو ارب روپے بچائے ہیں۔کیامیں نے نالے کے لیے سرکاری خزانہ استعمال کرنا تھا۔عدالت نے کہا بھی آپ پر الزام ہے جسے ثابت ہونا ضروری ہے۔

وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی جب کہ دونوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔اور دستخط کر کے عدالتی دستاویزات پر انگوٹھے کے نشان بھی لگا دئیے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کر لیا۔یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا. اس سے قبل بھی شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر مل کیسز دائر کیے گئے تھے جس میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا. تاہم 14 فروری کو لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ ہاﺅسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر کیسز میں ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کی جیل سے رہائی کا حکم دیا تھا.

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings