Advertisement

پاکستانی خود اپنے ساتھ مخلص نہیں تو ہمارے چیف جسٹس یا وزیراعظم کیا کر سکتے ہیں ؟

Advertisements

وزیراعظم عمران خان کی اپیل کے بعد ڈیمز فنڈ میں پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عطیات جمع کرائے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم لاہور کا رہائشی ایک شخص جب ڈیمز فنڈ میں رقم جمع کرانے گیا تو ایسا ہوشربا انکشاف ہو گیا کہ چیف جسٹس تو کیا وزیراعظم بھی شدید برہم ہو جائیں گے۔ نجی ویب سائٹ کے مطابق یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کی لاہور میں واقع ایک برانچ کا ملازم ڈیمز فنڈ میں جمع کرائی جانے والی رقم نامعلوم اکاؤنٹ میں منتقل کرتا ہوا پکڑا گیا۔

متاثرہ شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ رقم جمع کرانے گیا تو ڈیپوزٹ فارم بھرا گیا اور پھر رقم جمع کرائی گئی جس کے بعد ڈیوٹی پر موجود کیشئر نے ڈیپوزٹ فارم پر دستخط کئے اور مہر لگائی اور زبانی ہی بتا دیا کہ آپ کی رقم ڈیمز فنڈ میں منتقل ہو گئی ہے۔ رقم کی منتقلی کے حوالے سے تذبذب کے شکار شہری نے یہ جاننے کیلئے کہ آیا اس کی رقم واقعی صحیح اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی ہے یا نہیں، نے ثبوت کے طور پر کیشئر سے ڈیپوزٹ سلپ مانگی تو اس نے سلپ دینے سے صاف انکار کر دیا اور یہی کہتا رہا کہ اس کی رقم ڈیمز فنڈ میں منتقل ہو گئی ہے۔ شہری اس تمام صورتحال سے بددل ہو کر چلا گیا لیکن پھر صورتحال کو مزید جانچنے کیلئے دوسری برانچ سے مزید 500 روپے فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ اسی بینک کی ایک اور برانچ پر گیا اور رقم جمع کروائی تو کیشئر نے حیران کن طور پر اسے ڈیپوزٹ سلپ فراہم کر دی جس پر ڈیمز فنڈ کیلئے اکاؤنٹ نمبر اور رقم کی منتقلی کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ مذکورہ برانچ منیجر سے جب اس حوالے سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے تصدیق کی کہ اگر کوئی کسٹمر اصرار کرے تو اسے ڈیپوزٹ سلپ فراہم کرنا لازمی ہے اور جب اسے پہلی پرانچ کے کیشئر کے روئیے سے متعلق بتایا تو انہوں نے بھی اس کے روئیے پر شک کا اظہار کیا۔ اس سب کے بعد متاثرہ شخص اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ پہلی برانچ پر پہنچ گیا اور آپریشن منیجر کو ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے جواب طلب کیا جس پر اس نے ڈیمز فنڈ کیلئے جمع کرائی جانے والی رقم نامعلوم اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کا اعتراف تو کر لیا.

مگر ساتھ ہی اسے ’غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مذکورہ اکاؤنٹ سے رقم واپس حاصل کر کے ڈیمز فنڈ کیلئے مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو بھی اس طرح کے کسی معاملے کا سامنا کرنا پڑے تو فوراً بینک کے منیجر سے رابطہ کر کے شکایت درج کروائیں اور اگر پھر بھی تسلی نہ ہو تو پھر ای میل کے ذریعے سٹیٹ بینک سے بھی شکایت کی جا سکتی ہے۔

Advertisement

Source Dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings