Advertisement

ایک رات حضرت عمر ؓلوگوں کی خبرگیری میں مصروف تھے کہ ایک گھر سے آواز آئی ۔

Advertisements

ایک رات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور ان کی خبرگیری میں مصروف تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو تھکاوٹ محسوس ہوئی تو کسی گھر کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ایک عورت اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہے کہ بیٹی! جاؤ اٹھو اور دودھ میں پانی ملا دو۔ بیٹی نے کہا اماں! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا ہے۔ اس کی ماں نے کہا اے بیٹی! جاؤ بھی، بھی، میں پانی ملا دو، عمر رضی اللہ عنہ تو ہمیں نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس لڑکی نے جواب دیا کہ اماں! اگر عمر رضی اللہ عنہ ہمیں نہیں دیکھ رہا تو عمر رضی اللہ عنہ کا رب تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس نیک لڑکی کی بات بہت پسند آئی، اپنے غلام ’’اسلم‘‘ کو جو اس وقت ان کے ہراہ تھے فرمایا اے اسلم! اس دروازہ کی شناخت رکھنا اور یہ جگہ بھی یاد رکھنا۔ پھر وہ دونوں آگے چل دیئے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اسلم! وہاں جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ کہنے والی لڑکی کون ہے اور اس نے کس عورت کو جواب دیا اور کیا ان کے ہاں کوئی مرد ہے؟ اسلم معلومات لے کر واپس آیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس نے بتایا کہ وہ لڑکی کنواری، غیر شادی شدہ ہے اور وہ اس کی ماں ہے اور ان کے ہاں کوئی مرد نہیں ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بچوں کو بلایا اور ان کو حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ پھرفرمایا کیا تم میں سے کسی کو عورت کی حاجت ہے تو میں اس کی شادی کر دوں؟اور اگر تمہارے باپ میں عورتوں کے پاس جانے کی طاقت ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس لڑکی سے نکاح کرنے میں مجھ پر سبقت نہ لے جاتا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری تو بیوی ہے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری بھی بیوی ہے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابا جان! میری بیوی نہیں ہے آپ میری شادی کر دیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کو پیغام نکاح بھیجا اور (اپنے بیٹے) عاصم سے اس کی شادی کر دی۔ عاصم کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ کی والدہ بنیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان کے سب سے زیادہ عادل حکمران اور پانچویں خلیفہ راشد تھے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings