Advertisement

جو کام اسلامی ملک نہ کر سکے ، چین نے کر دکھا یا دوست ملک کی پاکستان کو بہت بڑی پیشکش

Advertisements

چین نے پاکستان کے پندرہ سو سکولز میں صاف پانی فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔ چین پاکستان کی میڈیا یونیورسٹی کو آئی ٹی میں تعاون بھی فراہم کرے گا۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے چین کے نائب سفیر لیجیان زہا سمیت چینی اکیڈمی آف سائنس کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں چین کے نائب سفیر نے چین کی جانب سے پاکستان کے1500سکولز میں صاف پانی فراہم کرنے کی پیشکش کی۔جبکہ چین پاکستان کی مجوزہ میڈیا یونیورسٹی کو آئی ٹی میں تعاون بھی فراہم کرے گا۔ملاقات میں چینی نائب سفیر نےپاکستانی شہریوں کو تربیتی پروگرامز کیلئے چین بھیجنے پر زور دیا۔وفاقی وزیرفواد چوہدری نے سکولوں میں صاف پانی کی پیشکش اور آئی ٹی یونیورسٹی میں تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چین سے پاکستان کی لیبارٹریز کو عالمی معیار پر قائم کرنے میں پاکستان کی مدد کر نے پر بھی زور دیا۔

سانحہ داتا دربار، سکیورٹی اداروں کو بڑی کامیابی مل گئی،دہشتگرد کا سہولت کار گرفتار

 داتا دربار خودکش حملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے دھماکے کے سہولت کار محسن خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔محسن خان کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے۔خود کش حملہ آور کی شناخت صدیق اللہ مہمند کے نام سے ہوئی۔خودکش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان 8مئی کو لاہور آئے تھے۔دونوں ملزمان نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی تھی۔سہولت کار نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ 6مئی کو طور خم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کے سہولت کار سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے۔یاد رہے کہ 8 مئی کو بدھ کی صبح تقریباً 8 بج کر 45 منٹ کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید جبکہ 30 افراد زخمی ہو گئے تھے۔سانحہ داتا دربار کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔سانحہ داتا دربار کے شہداء کی مالی امداد کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا ئی گئی تھی ۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی۔ جس کے متن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سانحہ داتا دربار حملے کے شہداکی مالی امداد کی جائے۔متن میں کہا گیا ہے کہ داتا دربار حملے میں شہید ہونے والا رفاقت علی تین بیٹیوں کا باپ تھا، محکمہ اوقاف نے رفاقت کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی، رفاقت کے جنازہ میں کسی حکومتی شخصیت نے شرکت تک نہیں کی، حکومت شہید رفاقت علی کے تینوں بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ اٹھائے اور ان بچیوں کے تمام تعلیمی و گھریلو اخراجات بھی حکومت ادا کرے۔تاہم اب حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ سانحہ داتا دربار میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کی مالی امداد کے لیے حکومت پنجاب نے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔

سانحہ داتا دربار میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کےاہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے مالی امداد کے طور پر دئے جائیں گے۔ شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کو گھر لینے کے لیے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے کی علیحدہ رقم ملے گی جبکہ سات سات مرلے کا پلاٹ اور اہل خانہ کو ہر ماہ تنخواہ بھی دی جائے گی جبکہ بیس ہزار روپے مینٹننس الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings