Advertisement

پاکستانی مشکل میں ہوں اور ہم خاموش رہیں ؟ دنیا کی سب سے طاقتور ’پاک فوج‘ حرکت میں آگئی

Advertisements

پاکستانی مشکل میں ہوں اور ہم خاموش رہیں ؟ دنیا کی سب سے طاقتور ’پاک فوج‘ حرکت میں آگئی ۔۔۔ ہفتے کے روز 150 ہندو یاتری جو اپنا تہوار منانے ہری سرمندر گئے تھے ضلع کچھی کے علاقے جھل مگسی کے پہاڑی علاقے میں ایک سیلابی ریلے میں پھنس گئے جنہیں پاک فوج کے جوانوں نے ہیلی کاپٹرکے ذریعے ریسکیو کر لیا ہے۔ سیلابی ریلے میں پھسنے والے یاتریوں میں سے 1 یاتری کی ڈوبنے کے باعث موت واقعہ ہو گئی تھی۔ ہفتہ کو روز وزیراعلیٰ بلوچستان جمال کمال نے نصیر آباد ڈویژن کے کمشنر اورضلع کچھی کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ لیویز، پولیس اور ریسکیو ذرائع کی مدد سے یاتریوں کی مدد کی جائے اور ہندو برادری سے رابطہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے وزارتِ داخلہ کو بھی درخواست کی تھی کہ فوج کو ذریعے یاتریوں کی مدد کی جائے اور انہوں نے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر بھی فوراََ موقعہ پر روانہ کیے تھے اور انہوں نے ہدایت کی تھی کہ ہندو یاتریوں کو باحفاظت واپس لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں جس کے بعد پاک فوج نے آپریشن کرتے ہوئے ہندو یاتریوں کو باحفاظت سیلابی ریلے سے نکال کر کیمپوں میں منتقل کر دیا ہے جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد اور دوسری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

حمزہ شہباز اور مونس لٰہی کی خفیہ ملاقاتیں،چوہدری شجاعت بھی میدان میں آگئے ،دھماکہ خیز اعلان کردیا

مسلم لیگ (ق ) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب والے ہمارے گھروں میں پانی کی ٹونٹیاں اور نلکےبھی گنتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو کمزور نہ سمجھیں وہ سیاسی طور پر طاقت ور ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے تنقیدی انداز میں سوال کیا کہ کیا آپ نے کوئی کشتی لڑانی ہے کہ تگڑا وزیر اعلیٰ ہو؟ واضح رہے کہ پچھلے دنوں مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے درمیان درپردہ ملاقاتوں کا انکشاف ہوا تھا،ملک میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف اور مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما مونس الہی کے درمیان ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات ہوئی۔یہ ملاقات حمزہ شہباز کی گاڑی میں ہوئی اور دونوں رہنما ڈیڑھ گھنٹہ تک لاہور کی سڑکوں پر گھومتے بھی رہے اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال بھی کرتے رہے اس سے پہلے پی ٹی آئی کے ساتھ مسلم لیگ ق کے اختلافات کے باعث ن لیگ نے پیش کش کی تھی کہ مسلم لیگ ن چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے لیے تیار ہے اگر پی ٹی آئی کو مسلم لیگ ق چھوڑ دے مگر چوہدری برادران نے کچھ وقت مانگا تھا ، ذرائع کے مطابق چوہدری بردارن مرکز میں مونس الٰہی کے لیے وزارت اور پنجاب میں زیادہ حصہ مانگ رہے ہیں اس سلسلے میں چوہدری برادران وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نے مونس الٰہی کو کابینہ میں لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ مونس الٰہی پر کرپشن کیسز ہیں اور وہ کسی ایسے شخص کو کابینہ میں نہیں لیں گے جس کی وجہ سے ان پر تنقید ہو ۔چوہدری برادران پنجاب میں بھی زیادہ اختیارات طلب کر رہے ہیں۔ گجرانوالہ، گجرات، چکوال، منڈی بہاؤالدین اور بہالپور اضلاع میں من مانی کرنا چاہتے ہیں،

جو تحریک انصاف حکومت کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔ وزیراعظم سے جواب ملنے کے بعد چوہدری برادران نے جہانگیر ترین کے ذریعے بھی اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کی ناکامی ملنے کے بعد چوہدری برادران نے شریف خاندان کی طرف دست تعاون بڑھایا۔شریف خاندان اور چوہدری خاندان میں ماضی میں بڑی قربت رہی ان قربتوں میں اس وقت دراڑ پڑی جب مشرف نے نواز شریف حکومت کا دھڑن تختہ کیا اور چوہدری برادران نے مشرف کا ساتھ دیا۔حالات نے ایک بار پھر پلٹا کھایا دونوں خاندانوں پر اس وقت نیب کی تلوار لٹک رہی ہے شریف خاندان تو نیب اور عدالتوں کی پیشاں بھگت رہا ہے جبکہ چوہدری خاندان کسی بھی وقت نیب کے شکنجے میں آ سکتا ہے۔احتساب کا خوف یا اقتدار کا لالچ ماضی کے حریف ایک بار پھر اکٹھے ہو رہے ہیں۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings