Advertisement

” ہمارا بسکٹ تصدیق شدہ حلال نہیں ہے “ اوریو کے اعلان نے ہر طرف ہنگامہ برپا کر دیا

Advertisements

پوری دنیا کے مسلمان اس وقت شدید حیرت میں مبتلا ہیں کیونکہ بچوں کے پسندیدہ اور نہایت معروف بسکٹ ” اوریو “ نے کہا کہ ان کا بسکٹ منطور شدہ حلال نہیں ہے ۔تفصیلات ے کے مطابق اوریو کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر بھی سوالات کے جوابا ت والی کیٹیگری میں اس حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں ہیں تاہم عام لوگوں تک یہ معلومات اس وقت پہنچیں جب ایک ٹویٹر صارف نے بسکٹ کے حلال ہونے کے حوالے سے کمپنی سے سوال کیا ۔ اوریو کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ” آپ کا ہم سے سوال کرنے کا شکریہ ، اوریو کے بسکٹس حلال نہیں ہیں ۔“اس سے قبل دنیا بھر میں M&M’s

پر بحث چھڑی ہوئی تھی کہ وہ حلال نہیں ہے تاہم اس کے بعد اوریو پر بحث چھڑ گئی ہے تاہم اگر دیکھا جائے تو یہ چاکلیٹ ، معدے، چینی ، تیل اور پانی جیسے مختلف اجزاءکے استعمال سے ہی تیار کی جاتی ہے اور یہ تمام چیزیں بھی حلال ہیں تاہم کمپنی کا اپنی ویب سائٹ پر کہناہے کہ یہ تصدیق شدہ حلال نہیں ہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اوریو کے بسکٹ تقریبا ایک صدی قبل 1912 می امریکہ میں متعارف کروائے گئے تھے اور یہ سب سے زیادہ پسند کے جانے والا بسکٹ مانا جاتاہے ۔اوریو بسکٹ سب سے پہلے 1912 میں نیشنل بسکٹ کمپنی نے اسے بنایا تھا جس کا م آج (Nabisco) ہے ۔

کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیےکتنا نقصان دہ ہے یا نہیں ؟جدید تحقیق نے بتا دیا

اسلامی تعلیمات میں پانی بیٹھ کر چند گھونٹ میں پینے کی ہدایات ملتی ہیں جبکہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے روکا جاتا ہے بلکہ اکثر اس پر لوگوں کی جانب سے ٹوکا بھی جاتا ہے، مگر کیا یہ عادت کسی قسم کے نقصان کا باعث بنتی ہے؟ طبی سائنس میں تو اس حوالے سے کوئی واضح جواب موجود نہیں یا اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی مگر آیورویدک طریقہ علاج میں اس عادت کو صحت کے لیے ضرور نقصان دہ قرار دیا گیا ہے.اس طریقہ علاج کے ماہرین جن نقصانات کا ذکر کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں.نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرےجسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہےتو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے.

گردوں کے افعال پر اثراندازگردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے.جوڑوں کے امراض کھڑے ہوکر پانی پینے کی عادت جسم میں سیال کے توازن کو بگاڑتی ہے اور اضافی سیال جوڑوں میں اکھٹاہوکر جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے.معدے کی تیزابیتاس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے.گردوں کے افعال پر اثراندازگردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے.جوڑوں کے امراض کھڑے ہوکر پانی پینے کی عادت جسم میں سیال کے توازن کو بگاڑتی ہے اور اضافی سیال جوڑوں میں اکھٹاہوکر جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے.معدے کی تیزابیتاس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے

جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہےجو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے.پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سے گریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی.نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے. قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں.

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings