Advertisement

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر حملے کے بعد وزیراعظم بھی میدان میں آگئیں ، اعلان کردیا

Advertisements

 نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے اور شہادتوں کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیکندا آرڈن بھی میدان میں آگئیں اور دہشتگردی و انتہاء پسندی کی مذمت کرتے ہوئے ایک حملہ آور کی گرفتاری کی تصدیق کی ، ان کاکہناتھاکہ ملزم سے تحقیقات جاری ہیں، فی الحال تفصیل نہیں بتاسکے، نیوزی لینڈ مسلمانوں کا گھر ہے اور ان کی حفاظت لازم ہے ، آج ہمارے ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم آرڈن نے بتایاکہ ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، نیوزی لینڈ میں پرتشدد واقعات کی کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے متاثر ہونیوالے لوگ مہاجر ہوسکتے ہیں جو نیوزی لینڈ آئے ہیں ، وہ یہاں مہاجر ہوسکتے ہیں لیکن وہ ہم ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں اس قسم کا یہ پہلا واقعہ ہے ، پاکستانی کمیونٹی سے مسلسل رابطے ہیں۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہائی کمیشن کے حکام مسلسل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں ۔  نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے وقت حملہ آوروں نے فائرنگ کر دی جس کے باعث مجموعی طور پر 9 افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ سیریز کیلئے وہاں موجود بنگلہ دیشی ٹیم محفوظ رہی ہے ۔نیوزی لینڈ کے النور اور لین ووڈ مساجد میں فائرنگ کی گئی جبکہ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم النور مسجد میں نماز جمعہ کیلئے موجود تھی ۔

نیوزی لینڈ کے میڈیا کے مطابق حملہ آور نے فوجی وردی پہن رکھی ہے اور اس کی عمر 28 سال ہے جبکہ وہ آسٹریلیا کا شہری ہے جبکہ دوسرے دہشتگرد نے چہرے پر ہیلمٹ پہن رکھا ہے ۔دہشتگرد حملے کی فوٹیج براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کر رہے تھے ۔نیوزی لینڈ کی پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ حملے میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے شبہ کا اظہار کیا جارہاہے ۔

دوسری جانب النور مسجد میں بنگلہ دیش کی ٹیم نماز جمعہ کیلئے موجود تھی کہ عین موقع پر فائرنگ ہو گئی تاہم تمام کھلاڑی محفوظ رہے ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔

Advertisement

Source DailyPakistan
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings