Advertisement

نیا جنوبی پنجاب صوبہ کن کن اضلاع پر مشتمل ہوگا، اعلان کردیا گیا

Advertisements

 شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کیلئے آئین میں ترمیم درکار ہے، نیا صوبہ ملتان، بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان کے اضلاع پر مشتمل ہوگا، آبادی کی بنیاد پر نشستیں اور سینیٹ میں نمائندگی ملے گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کو علیحدہ تشخص دینے کا وعدہ کیا تھا، قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے، بل پر اتفاق رائے کیلئے

سپیکر خصوصی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا جنوبی پنجاب صوبہ ملتان،ڈی جی خان، بہاولپور ڈویژن کے اضلاع پر مشتمل ہوگا، جنوبی پنجاب کی علیحدہ اسمبلی آئینی ترمیمی بل میں تجویز کی گئی ہے، بل میں جنوبی پنجاب اسمبلی کیلئے 120 نشستیں تجویز کی گئیں، آئینی ترمیمی بل کی منظوری سے پنجاب اسمبلی کی نشستیں 251 ہو جائیں گی۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا جنوبی پنجاب صوبے کیلئے آئین میں ترمیم درکار ہے، آرٹیکل 51 میں ترمیم سے جنوبی پنجاب صوبہ وجود میں آئے گا، جنوبی پنجاب صوبے کی علیحدہ ہائیکورٹ ہوگی، جنوبی پنجاب کا اپنا ہائیکورٹ اور چیف جسٹس ہوگا، جنوبی پنجاب صوبے کے حق میں پیپلزپارٹی کا بھی موقف رہا، جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق پیپلزپارٹی نے مثبت جواب دیا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق پیپلزپارٹی کے سینیر رہنماؤں سے بات ہوئی، آرٹیکل 218 میں ترمیم کر کے پانچ صوبے بن جائیں گے۔

پشاور کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری

 صوبائی دارالحکومت کے تینوں بڑے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے۔سرکاری ڈاکٹروں نے احتجاجی میدان لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں سجالیا ہے۔ جس میں ڈاکٹروں کے قافلے جوق در جوق آرہے ہیں۔ اس احتجاج میں اب خیبر میڈیکل کالج اور خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور کے فیکلٹی ممبران بھی شامل ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد خیبر میڈیکل کالج میں ٹیچنگ اسٹاف نے کلاسز کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ ڈاکٹروں نے اپنے نجی کلینکس کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ اپنے مطالبات پر عملدرآمد تک احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ڈاکٹروں نے تمام سرکاری اسپتالوںمیں او پی ڈی سروسز کا مکمل بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے تمام اوپی ڈیز ویران پڑی ہوئی ہیں

جبکہ دور دراز سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں کے احتجاج کے باعث تمام اسپتالوں میں او پی ڈی اور وارڈوں میں موجود مریض شدید تکلیف سے دوچار ہیں۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا جاسکا ہے۔ اسپتالوں کی انتظامیہ بھی بےبس ہوکر رہ گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس احتجاج کو صوبے کے تمام اسپتالوں تک توسیع دی جائے گی۔ڈاکٹرز تنظیموں کی جانب سے اپنے ساتھی ڈاکٹر ضیاء الدین پر صوبائی وزیر صحت کے گارڈز کے مبینہ تشدد کے خلاف احتجاج اور طبی سروسز کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات کے لئے حکومت کو 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن بھی دے رکھی ہے جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ اور ڈاکٹر نوشیروان برکی سے استعفی کا مطالبہ، ڈاکٹروں پر پولیس تھانے میں تشدد پر متعلقہ پولیس آفیسر کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے پر انکوائری مقرر کرنے کے مطالبات کئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹی کے حوالے سے عید تک حکومت کو مہلت دی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ خیبر ٹیچنگ اسپتال نے اس معاملے پر پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب انچارج سرجیکل اے یونٹ کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بھی مقرر کردی ہے۔ جو اپنی رپورٹ 48 گھنٹوں میں بورڈ آف گورنرز کو جمع کرائے گی۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings