Advertisement

نصیر الدین شاہ کو بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جانا چاہئے ، انتہا پسند ہندوؤں سے معروف مسلمان اداکار کا سچ برادشت نہ ہو سکا

Advertisements

 نامور بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ کو  انڈیا کا حقیقی چہرہ عیاں کرنا مہنگا پڑ گیا ،حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت انتہا پسند ہندوؤں نےبالی ووڈ کے معروف مسلمان اداکار لفظی گولہ باری اور تنقید کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا ،کوئی انہیں ہندوستان چھوڑ کر پاکستان جانے کا ’’مشورہ‘‘ رہا ہے تو کوئی انہیں غدار کہہ کر بلا رہا ہے ۔

بھارتی نجی ٹی وی کے مطابق نصیرالدین شاہ تین روز قبل اپنے دیئے جانے والے بیان کے بعد مسلسل تنقید کی زد میں ہیں اور بھارتی ہندو انتہا پسند جماعتوں نےانہیں غدار قرار دیتے ہوئے بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جانے کا مشورہ دے دیا ہے۔بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت شیوسینا کی رکن منیشا کیاندے نے اداکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر نصیرالدین شاہ کو یہاں(بھارت میں) رہنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ پاکستان منتقل ہوجائیں۔منیشا کیاندے نے کہا کہ ہمارے جذبات بالکل اسی طرح مجروح ہوئے ہیں جیسے اس وقت ہوئے تھے جب عامر خان اوران کی اہلیہ کرن راؤ نے بھی اسی طرح کا بیان دیاتھا،ان کے بعد نصیر الدین شاہ دوسرے اداکار ہیں جنہوں نے بھارت میں رہتے ہوئے اور یہاں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح کی زبان استعمال کی ہے، اگر وہ یہاں آرام دہ محسوس نہیں کرتے تو انہیں پاکستان چلے جانا چاہئے۔

بھارت کی حکمران جماعت کے اہم لیڈر سبرامینم سوامی نے تو دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ اگر نصیر الدین شاہ کو ہندوستان میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے تو ہم انہیں نہ صرف پاسپورٹ بنا کر دے دیں گے بلکہ وَن وے ٹکٹ بھی دیں گے وہ جہاں جانا چاہتے ہیں چلے جائیں،اگر وہ امریکہ گئے تو وہاں تو نصیر الدین شاہ کا نام دیکھتے ساتھ ہی ان کے کپڑے بھی اتار دیئے جائیں گے ۔ سبرامینم سوامی نے کہا کہ اگر نصیر الدین شاہ کو ڈر لگتا ہے اور ان میں ہمت نہیں ہے اس ڈر کو کو دور کرنے کی تو پھر وہ بھارت میں رہنے کے قابل بھی نہیں ہیں،ہمیں کسی ڈر پوک کی ضرورت نہیں ہے ،ان کے بھارت میں رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج بھی نصیر الدین شاہ کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں اور انہوں  نے بھی نصیر الدین شاہ سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہندوستان کے حالات بالکل بارمل ہیں پھر بھی نصیر الدین شاہ ایسا بیان د ے رہے ہیں،یہ بیان  2019کے پارلیمانی الیکشن کے پیش نظر دیاجارہا ہے،جب ملک میں ہر طرف افراتفری تھی تب  نصیر الدین شاہ کیو ں خامو ش تھے؟۔انہوں نے کہا کہہم نے عامر خان سے بھی کہا تھا کہ وہ ہندوستان چھوڑ دیں اور نصیر الدین شاہ سے بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ انھیں بھی ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے۔


بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار انو پم کھیر بھی نصیر الدین شاہ پر تنقید کرنے میں پیچھے نہیں رہے  اور بولے کہ نصیر الدین شاہ میرے سینئر ہیں ،بھارت میں ہر ایک کو ہر بات کہنے کی آزادی ہے ،اس ملک میں تو اتنی آزادی ہے کہ آپ فوج کو گالی دے سکتے ہیں، ایئر فورس کے سربراہ کو برا بھلا کہہ سکتے ہیں اور جوانوں پر پتھراؤ کر سکتے ہیں،آپ اس ملک میں اور کتنی آزادی چاہتے ہیں؟اتنی آزادی تو دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ہے،نصیر الدین شاہ جو کہتے ہیں انہیں کہنے دیں ،ضروری نہیں کہ وہ جو کہہ رہے ہیں وہ درست بھی ہو ۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings