Advertisement

”ننھی بچی نے جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو اللہ تیرا عرش بھی تو رویا ہو گا“

Advertisements

”ننھی بچی نے جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو اللہ تیرا عرش بھی تو رویا ہو گا“ پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی اسمبلی میں تقریر نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، ایسا مطالبہ کر دیا جو پوری قوم کے دل کی آواز ہے معصوم زینب کے قتل نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے اور ہر کوئی دل شکستہ ہو کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ سیاستدان بھی اس سارے معاملے پر افسردہ ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ایم این اے علی محمد خان تو سب پر بازی لے گئے ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایسی تقریر کی کہ ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ ان کی تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جسے بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔علی محمد خان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ” وہ وقت ننھی بچی نے جب آخری بار اپنے ماں باپ کو پکارا ہو گا، اپنی ماں کو پکارا ہو گا، اللہ تیرا عرش بھی تو رویا ہو گا۔ کیا ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے کوئی احساس ہے یا صرف ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہیں گے۔ جب تک اس ملک کو قرآن کی شرعی سزاﺅں کی طرف لے کر نہیں جائیں گے۔

جب تک ان لوگوں کو قرآن کے مطابق سزائیں نہیں دیں گے، ہر صوبے میں یہ ہوتا رہے گا، ان کو چوکوں میں پھانسی دینی چاہئے، قرآن کے مطابق سزائیں دینی چاہئیں۔ قرآن سے مت ڈرو، انگریز کے قانون سے ڈرو، اللہ کے غضب سے ڈرو مگر اللہ سے پیار کرو اور اللہ کے نظام سے پیار کرو اور وہ کیسے ہو گا؟
یہ مسلم لیگ (ن) کر سکتی، نہ پیپلز پارٹی اور نہ پی ٹی آئی کر سکتی ہے، ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک ایسے معاملات پر نواز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو زرداری، مولانافضل الرحمان اور اس طرح کے دیگر لیڈران اکٹھے نہیں ہوں گے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ہمارے بچے کو کوئی تھپڑ مار دے تو ہمیں نیند نہیں آتی، میں کل زینب کے والد سے ملا ہوں تو وہ شخص میرے کندھے پر سر رکھ کر رویا ہے اور کہتا ہے کہ اسے انصاف چاہئے۔ یقین کیجئے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا کہ جس قتل کا قاتل نہ ملے، اس کا گنہگار اور ذمہ دار حکمران وقت ہے اور ہم سب حکمران وقت میں آتے ہیں۔ہم بھول جائیں گے، سپیکر صاحب ہم بھول جائیں گے، زینب ہماری بچی حضرت زینب ؓ کیساتھ جنت میں ہو گی لیکن کیا ہم اپنی بچیوں کو ایسے ہی جنت میں پہنچاتے رہیں گے۔ میری یہ دعا ہے کہ اس طرح کی کوئی اور زینب پیدا نہ ہو لیکن اس کیلئے ہمیں اکٹھا ہونا پڑے گا۔ علامہ اقبال نے فرمایا تھا ”وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر، اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر“۔ دس بندوں کو لٹکا دیں، میں دیکھتا ہوں کہ کون اس طرح کا جرم پھر کرتا ہے۔

Advertisement