Advertisement

مولانا سمیع الحق قتل کیس میں نیا موڑ , آخر قتل کیا کس نے ؟ پولیس والے چکرا کر رہ گئے

Advertisements

مولانا سمیع الحق کے قتل کے ہائی پروفائل کیس کا معمہ پولیس تاحال حل نہ کر سکی ۔ مولانا کے باتھ روم سے خون آلود قمیض کا بھی پتہ نہ چلایا جا سکا اور مولانا کے قتل میں ملوث انتہائی اہم شخص ان کے سیکرٹری احمد شاہ کو بھیشامل تفتیش نہ کیا جا سکا ۔تفصیلات کے مطابق 10 روز گزرنے کے باوجود بھی مولانا سمیع الحق کے قتل کا معمہ پولیس تاحال حل نہ کر سکی اور پولیس نے ابتدائی طور پر 3 لوگوں کو حراست میں لیا لیکن ان سے بھی پولیس کو کوئی اہم کامیابی نہیں ملی اس کے علاوہ مولانا سمیع الحق کے باتھ روم سے ملنے والی خون آلود

قمیض کا بھی پتہ نہ چلایا جا سکا کہ آخر وہ قمیض کہاں سے آئی اور وہاں پر کیوں چھوڑی گئی ۔سب سے اہم بات مولانا سمیع الحق کے قتل کے اہم شخص ان کے سیکرٹری احمد شاہ کو بھی پولیس نے شامل تفتیش نہیں کیا تاکہ ان سے اہم شواہد جانے جا سکیں ۔ دوسری طرف بھارت نے 27اکتوبر1947ء کو سرینگر میں فوجیں اتار کر جموں و کشمیر پر جو ناجائز قبضہ کیا تھا مقبوضہ کشمیر پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی کشمیر ی عوام نے یوم سیاہ منایا اس یوم سیاہ کی تاریکی 70سال سے کشمیری عوام کو بخشی ہوئی ہے ۔لاکھوں افراد شہید‘ہزاروں زخمی اور ہزاروں عصمتیں پامال ہو چکیں۔ ہزاروں بے گناہ جیلوں ‘عقوبت خانوں میں اذیتیں برداشت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔بھارت کنٹرول لائن کی بھی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے پاک فوج کے جوانوں کی جرات آبیاری اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں کے باعث اس کسی بڑی کاروائی کی جرات نہیں ہو رہی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاونڈوسیکٹر میں پاک فوج کے جوانوں سے ملاقات کی ان کی جرات وبہادری اور دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو خاک چٹان کی صلاحیت ومہارت کو سراہا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ تنازعہ ہے پاکستان کے عوام اور پاک فوج کشمیریوں کے موقف کی حمایت کرتے ہیں ۔پاک فوج خطے میں امن واستحکام کی خواہاں ہے لیکن کسی جارحیت کی مہم جوئی کے خلاف ملک سلامتی کے لئے بھی ہمہ وقت تیار ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس خطاب پر غور کیا جائے تو یہ کئی پہلو رکھتا ہے ۔

بلکہ اگر اسے خطاب کی بجائے واضح پیغام سمجھاجائے تو شاید بلکہ یقینا غلط نہ ہو گا۔اول یہ خطے میں امن واستحکام کی سچی خواہش کا اظہار کیا ہے کیونکہ خطے میں اس سے ہی استحکام جنم لے گا اور استحکام کی کو کھ سے ترقی وخوشحالی جنم لے گی۔ جس کا جتنا فائدہ پاکستان کو ہے اتنا ہی یہ بھارت کیلئے بھی مفید ہے ۔جس کے عوام کی بہت بڑی اکثریت غربت و افلاس کی چکی میں پسی اذیت ناک زندگی گزاررہی ہے ۔دوئم یہ بھارت کے جنگی جنوں میں مبتلا حکمرانوں کے لئے پیغام ہے کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں ۔وہ جو اپنے عوام کو ننگا بھوکار کھ کر ہتھیاروں کے ڈھیرلگانے کیلئے اربوں کھربوں ڈالر سے اسلحہ ساز غیر ملکی کمپنیوں یا ملکوں جن میں امریکہ سر فہرست ہے کی تجوریوں کو بھررہے ہیں پاک فوج کے جوانوں کی اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ عسکری مہارت اور جرات وبہادری کے لئے پر کاہ کی حثیت نہیں رکھتے لہٰذا بھارت کے جنگی جنون میں مبتلا حکمران خبردار رہیں پاک فوج وفاع وطن کے لئے ہر لمحے چوکس وتیار ہے ان کی جانب سے کسی بھی احمقانہ مہم جوئی کا بھرپور جواب دیاجائے گا ۔پاک فوج کی جوابی اہلیت ہے جس نے بھارت کے جنگی جنون میں مبتلا حکمرانوں اور بھارتی فوج کے دلوں میں مچلتی سر جیکل سٹرائیک کی خواہش کوآرزوئے ناتمام بنا رکھا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں ایسی کسی حماقت کی کیا قیمت ادا کرنی ہو گی۔ لہٰذا نہ صرف عوام کو دھو کہ دینے اور اپنی خواہش میں جھوٹ کا رنگ بھرنے کے لئے بھارتی آرمی چیف نے سرجیکل سٹرائیک کا شوشہ چھوڑا جس کا خود بھارت میں سوچ سمجھ رکھنے والے افراد کا پول کھول دیا اور اس حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ کوئی واضح ثبوت پیش نہ کر سکے ۔دوسرے پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا بھی بھارت کو کسی جارحیت سے باز رکھے ہوئے ہے ورنہ پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کرتے ہی اس وقت آج کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما دم پر کھڑے ہو گئے تھے ۔

اور نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی نے تو باقاعدہ دھمکی دے دی تھی پاکستانی ٹولوں آزاد کشمیر سے نکل جائے لیکن چند دنوں بعد جب پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایک بجائے چھ دھماکوں سے جواب دیا تو ان بھارتی رہنماؤں کی بولتی بند ہو گئی تھی ۔جس کے بعد بھارت کے مکار حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف دیگر محاذ کھول دےئے جن میں کراچی اور بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی ایک بڑا محاذ تھا مگر پاک فوج نے اس چیلنج کو قبول کیا اور عظیم قربانی دیکر ملک وقوم کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلادی ۔پاک فوج کی یہ عظیم کامیابی دراصل بھارت کی شرمناک شکست ہے اور اس شکست کی واضح نشانی بھارتی جاسوس حاضر سروس فوجی آفیسر کلبھو شن یا دیو کی گرفتاری ہے ۔بھارت نے اسے کاونٹر کرنے کے لئے ایک نام نہاد امریکی فرم کی جانب سے پاکستان کے سابق فوجی آفیسر کی انتہائی پر کشش معاوضہ پر خدمات کا اشتہار دیا کئی سابق فوجی افسروں نے اس پیشکش کے جواب میں اپنی خدمات پیش کی ہوں گی لیکن نگاہ انتخاب کرنل (ر)ایوب پر پڑی اس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ کلبھوشن یادیو نیوی میں کرنل کے عہدے کا آفیسر ہے لہٰذا اس عہد کے پاکستان آفیسر کو پھانسنے کی چال چلی گئی نام نہاد امریکی فرم کی آفسر کرنل ایوب کی خدمات قبول کرنے کیلئے دبئی پہنچے ۔دبئی سے نیپال بلوانے اور نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے بھارتی سر حد کے نزدیک ایک گاؤں میں لے جائے جانے کی تفصیل کرنل ایوب اپنے لیپ ٹاپ کے ذریعہ گھر والوکو بھیجتے رہے ۔چنانچہ جب انہیں اس سر حدی گاؤں لے جا کر بھارتی فوج کے حوالے کیا گیا اور اس سے پہلے کہ بھارت کی جانب سے یہ اعلان ہوتا کہ پاکستان کا ایک کرنل کا عہدہ رکھنے والا جاسوس پکڑلیا گیا ہے اور اس کے بدلے کلبھوشن کی رہائی کا مطالبہ منوایا جاتا کر نل ایوب کی ساری داستان منظر عام پر آگئی اور بھارتی منصوبہ ناکام ہو گیا ۔تا ہم وہ افغانستان میں امریکہ سے مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔مگر پاک فوج کے آہنی عزم واداروں اور جرات وبہادری کے آگے اس کا بس نہیں چل رہا۔جنرل قمر باجوہ نے عالمی برادری کو بھی خبردار کیا ہے کیونکہ بھارت کے جنگی جنون سے جنوبی ایشیا میں امن اوستحکام کو پہنچنے والے نقصان سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات پڑیں گے اس لئے عالمی برادری کوبھارت کی امن دشمن کارروائیوں کانو ٹس لینا چاہیے

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings