Advertisement

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے بعد جنید جمشید فرانچز کی جانب سے کتنی رقم ڈیم فنڈ کیلئے دی گئی ؟ حیران کن خبر

Advertisements

کراچی میں گورنرہاؤس میں بھاشاڈیم فنڈ ریزنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اعلانات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لیے فیصلہ کیا ہے ،کراچی نادرن بائی پاس ہم نے بناناہے ،کراچی میں ریلوے کا لوکل نظام بنائینگے، کورنگی صنعتی علاقے میں ری سائیکل پلانٹ لگائینگے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلی کاپٹر سے کراچی دیکھا صرف کنکریٹ تعمیرات ہیں، کچرہ اٹھاناصوبے کی ذمہ داری ہے، اگر دوماہ میں کچرہ اٹھانے کا کام نہیں ہوا تو وفاقی حکومت یہ کام کرے گی، ہم پہلی مرتبہ کراچی کا ماسٹرپلان بنائینگے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں فنڈر یزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم نے اب اس ملک میں ڈیم بنانے کی کوشش نہ کی تو ہماری آنیوالی نسل کے لئے بڑی مشکل ہوجائیگی ۔ ڈیمز پر سب سے زیادہ کام آمروں کے وقت میں ہوا ، اس وقت بہت زیادہ سستی بجلی ملتی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جو بجلی ہم نے پانی پر بنانی تھی ، وہ بجلی ہم نے در آمدکردہ آئل سے بنانی شروع کردی جس سے بجلی مہنگی ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب پانی کم رہ گیاہے،ماہرین نے مجھ کو بتایا ہے کہ اگر 2025تک یہی صورتحال رہی تو ملک میں پانی کی بہت کمی پیدا ہوجائے گی اور ملک زرعی پیداوار میں بہت نیچے چلا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ماہ میںپاکستان کا اسی فیصد پانی سمندر میں نکل جاتاہے اور باقی ساڑھے نو ماہ میں صرف 20فیصد پانی بہتا ہے ۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ہم نے اپنے ملک کے عوام کو متحرک کرناہے ۔ یہ اس لئے کرناہے کہ ہمارے پاس ڈیم بنانے کیلئے پیسے نہیں ہیں ، اس وقت ملکی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ ملک پر چڑھا ہواہے ۔ اس وقت ملک پر 30ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ منی بل سے گھبرائے ہوئے ہیں لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،ہم منی بجٹ پر بہت زیادہ کام کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بجٹ میں ڈیم بنانے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور اس لئے ہم نے فنڈریزنگ کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ڈیم کیلئے سالانہ 30ارب روپے کاٹارگٹ حاصل کرناہے اور ہم یہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک قوم بن جاتی ہے تو دنیا میں کوئی کام اس قوم کیلئے مشکل نہیں ہوتا ۔ قوم اس وقت بنتی ہے جب عوام اور حکومت میں فرق نہیں رہتا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیم بنانے کیلئے ہم سب کو اکٹھا ہونا ہوگا ، حکومت یہ ڈیم نہیں بنا سکتی کیونکہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے ۔ ہم بھاشا ڈیم کے ساتھ ساتھ مہمند ڈیم پر کام بھی کررہے ہیں۔ اس کے دوفوائد ہونگے ،

ایک تو بجلی بھی سستی ملے گی اور دوسرا ہم پانی کا ذخیرہ کرلیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کراچی والوں کا شکریہ ادا کرتاہوں جس طرح اس نے مجھے جتایا ہے ۔ کراچی کے ساتھی بڑی دلیری کے ساتھ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک کراچی نہیں کھڑا ہوتا پاکستان آگے نہیں بڑھے گا ۔کراچی میں ہوتا یہ رہاہے کہ کراچی کی اونر شپ کسی کے پاس نہیں تھی اس لئے جب کراچی نیچے گیا تو پورے پاکستان پر اثر پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے مسئلے بھرپور توجہ دیں گے، ہم سندھ حکومت کے ساتھ ملکر کراچی کے تمام مسائل پر توجہ دیں گے کیونکہ کراچی جب اوپر جائے گا تو ملک پر اس کا اچھا اثر پڑے گا ۔ کراچی میں سٹریٹ کرائم کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں انڈر کلاس بڑھتی جارہی ہے ۔ ان میں چارلاکھ بنگالی اور افغانستان کے لوگ شامل ہیں ۔ ان کو شناختی کارڈ ز نہیں ملتے جس کی وجہ سے وہ جرائم کی طرف جاتے ہیں۔ ہم ان کو شناختی کارڈز اور پاسپورٹ بنا کردیں گے کیونکہ وہ یہاں پیدا ہوئے ہیں ۔ہم ان کی مدد کریں گے کہ تاکہ ان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے ۔ یہ ملک تب اٹھے گا جب کمزور طبقات اوپر آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چائنہ سپر پاور ایسے بنا کہ اس نے 30سال میں 70کروڑ لوگوں کوغربت سے نکالاہے ۔ انہوں نے کہا ہم پہلی دفعہ کراچی کا ماسٹر پلان بنائیں گے اور اس ماسٹر پلان کے تحت جو بھی خالی جگہ ہے اس میں جنگلات اگائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت کو گندگی صاف کرنے کیلئے دوماہ دیں گے اوراگر یہ کام نہ ہوا تو پھر وفاقی حکومت اس کام میں ملوث ہوگی اورہم گندگی کوصاف کرنے کیلئے پورا زور لگائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی ذہنوں میں آتی ہے اور ہم جب سے آزاد ہوئے ہیں یہ مائنڈ تبدیل نہیں ہوا ۔ یہ مائنڈ سیٹ وہ ہے کہ جنہوں نے ہمارے ملک کوفتح کیاہواتھا وہ ہمارے پیسے سے شاہانہ انداز سے رہتے تھے اور ہم کو غلام سمجھتے تھے لیکن اپنے ملک میں وہ سادگی سے رہتے تھے ۔ ہمارا نو آبادیاتی مائنڈ سیٹ ہے کہ حکمران عوام کواپنا نہیں سمجھتے تھے اور عوام حکمرانوں کو اپنا نہیں سمجھتے تھے اورآزادی کے بعد بھی یہ مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا ۔ اب ہمارا مائنڈ سیٹ یہ ہے کہ ہم نے اپنے عوام کے پیسے کی حفاظت کرنی ہے ، جب یہ مائند سیٹ آئے گا تو پھر تبدیلی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سے تبدیلی شروع کی ہے اور تبدیلی اوپر سے آتی ہے ، پہلے ہم تبدیل ہونگ، پھر بیوروکریٹ بھی تبدیل ہونگے اور پھر عوام میں بھی تبدیلی آئیگی ۔اس طرح ملک پر سے قرضہ بھی اترجائے گا اورپاکستان ایک عظیم ملک بنے گا، انشاءاللہ

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings