Advertisement

جنات نے حضرت سلمانؑ کو “ملکہ بلقیس ” سے شادی کرنے سے کیوں روکا تھا۔۔؟

Advertisements

ایک شخص شکار کے لیے نِکلا۔اُس نے دو سانپ دیکھے کہ:” آپس میں لڑ رہے ہیں۔ایک سفید ہے اور دوسرا سیاہ،اُس نے سیاہ کو مار ڈالا اور شکار کے لیے چلا گیا۔ ”اُسے ایک صاحبِ جمال عورت نظرآئی اور کہنے لگی:” میں وہی سانپ ہوں،تُو نےمیرے دُشمن کو مار ڈالا تُجھے اس کا عوِض مِلنا چاہیے۔پس میں اپنی بیٹی سے تیرا نِکاح کیے دیتی ہوں۔لیکن اُس کی کسی بات پر اعتراض نہ کرنا ورنہ، اگر تُو تین بار اعتراض کرے گا تو اُس پر تین طلاق پڑ جائیں گی۔ ”خیر اُس نے نِکاح کِیا اور اُس سے ایک لڑکی ہوئی،ایک آگ آئی اور اُس عورت نے لڑکی کو آگ میں ڈال دیا۔ اُس شخص نے کہا:” تُو نے یہ کیوں کِیا؟ ”۔ وہ بولی:” ایک طلاق ہو گئی۔ ”پِھر اُس کے ہاں لڑکا پیدا ہُوا اور ایک کُتّا آیا، اُس عورت نے اُس بچّے کو کُتّے کو دے دیا۔پِھر اُس شخص نے کہا:” یہ کیوں کِیا؟ ”وہ بولی:”

یہ دوسری طلاق ہو گئی۔ ”پِھر اس کے کسی ساتھی نے اس کے پاس کُچھ کھانا بھیجا،اس عورت نے اس میں نجاست ڈال دی۔اُس شخص نے کہا:” یہ کیوں کِیا؟ ”وہ بولی:” تو یہ تیسری طلاق ہو گئی اور سُن! میں تُجھے اس کا راز بتلائے دیتی ہوں جس پر تُجھ سے صبر نہ ہو سکا۔آگ اور کُتّا یہ دونوں ہمارے بچوں کی پرورش کِیا کرتے ہیں اور اس کھانے میں زہر مِلا تھا۔ ”پِھر کُچھ مُدّت بعد وہ عورت مع اپنے لڑکے کے آئی اور یہ کہہ کر اسے لڑکی دی گئی۔ کہ:” یہ تیری لڑکی ہے۔ ”اور وہی لڑکی ” بلقیس ” تھیں جو حضرت سلیمان علیہ السّلام کی زوجہ بھی تھیں۔اسی وجہ سے جِنّوں نے حضرت سلیمان علیہ السّلام سے بلقیس کا نِکاح ناپسند کِیا تھا۔تاکہ اُن کے اسرار نہ بتائیں اورجو کُچھ اُن کا ماجرا ہُوا،وہ نیکی کرنے کی بدولت تھا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings