Advertisement

جب وہ عورت بچے پر بچے پیدا کرنے لگی تو میری دایہ دادی کو سمجھ آگئی کہ یہ انسان نہیں بلکہ جنات ہیں

Advertisements

یہ بات کافی پرانی ہے ۔بڑی انہونی لگے گی ،سوال کیا جائے گا کہ ایسا کیسے ممکن ہے لیکن جس تن لاگے وہ جانے۔ میری بھابھی کی دادی اماں جو کہ دایہ کا کام کرتی تھیں ایک ملنساراور ہنس مکھ عورت تھی۔ اسکے کام کی شہرت دوردور تک پھیلی تھی۔دن کے وقت گھر کے کام اور چرخہ کا تتی ،رات کو نوافل پڑھتی تھی۔اسکی عبادت گزاری کی وجہ سے لوگ اس سے دعا بھی کراتے تھے ۔ویسے بھی یہ کھرے اور ایمان والے لوگوں کا زمانہ تھا ۔ایک دن کیا ہوا کہ وہ رات کو نماز پڑھ کر سونے لگی دروازے پر دستک ہو ئی ۔دیکھا تو سامنے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کھڑا تھا ۔وہ اندر آگیا ۔

دادی نے اسے بیٹھنے کو کہا تو وہ پریشان ہو کر بولا ” اما ں جی مہر بانی فرمائیں ذرا میرے گھر چلیں میری گھر والی کوتکلیف ہے ۔آپ جلدی جلدی میرے ساتھ چلیں“دادی نے فوری تیاری پکڑی۔ کسی حیل و حجت کے بغیر وہ اس کے سا تھ چلی گئیں۔ چلتے چلتے جب وہ لو گ کا فی دورنکل آئے تو پہلے دادی حیران ہوئی کہ وہ اسے کہاں لئے جارہا ہے ۔پھر خود ہی سوچ لیا ہے ہوسکتا ہے جنگل کے پار اکسا گھر ہو۔خیر وہ جنگل میں پہنچے تووہ شخص دادی کو ایک کٹیا میں لے گیا جہاں ایک عورت درد ذہ میں مبتلا تھی۔ دادی اماں نے اس کا علا ج وغیرہ کیا۔ اللہ کے کرم سے پہلا بچہ پید اہو ا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔لیکن دادی اماں حیران تو تب ہو ئیں جب وہ شخص بچو ں کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر کے، پا س ہی آگ کا الاو تھا اس میں پھینکتا جا تا۔یہ منظر دیکھ کر دا دی اماں پہچان گئیں کہ یہ انسان نہیں، جن ذات کے لوگ ہیں اور وہ بڑی غلطی کر بیٹھی ہیں جو رات گئے اس کے ساتھ آگئی ہیں۔ اب وہ جنّ بھی پہچان گیا کہ بڑی اما ں پریشان ہو گئیں۔ کافی حوصلے دینے لگا ” ڈرو نہیں آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو ہم عمر بھر نہیں اتار سکتے۔ مانگو جو مانگنا ہے“ لیکن دادی اما ں کی ایک ہی بات تھی ”آپ کی مہر بانی، آ پ مجھے گھر پہنچا دیں“جنّ نے کہا ” آنکھیں بند کرو“ انہوں نے آنکھیں بند کیں۔ جب آنکھ کھولی تو اپنے کمرے کے اندر تھیں۔اس جنّ نے جب دیکھا کہ اما ںجی سوت سے دلچسپی رکھتی ہیں تو خودہی ایک کھبی

ان کو دی کہ یہ پا س رکھ لیں اور اس کا ذکر کسی سے نہ کر نا۔ انشاء اللہ تمہا را کام بن جا ئے گا ۔وہ جب تک زندہ رہیں ،ان کے کمر ے سے سوت ختم نہ ہو تا تھا۔ لوگ اور خاص کر عورتیں بہت حیرا ن ہو کر پو چھتیں کہ بڑی اماں کیا بات ہے آخر اتنا سوت آپ کہاں سے لا تی ہیں توآخر کا ر ایک دن انہو ں نے یہ کہا نی انہیں سنا کرمطمئن کر دیا۔ یہ بالکل سچا وا قعہ اور حقیقت ہے۔ پہلے والے لو گ سچے اور پر خلو ص ایماندار تھے اور دوسروں کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ا سلئے مخلوق جنات بھی ان کے پاس بھی آجاتی تھی

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings