Advertisement

پابندیوں کا خوف ! بھارت کے بعد قطر نے ایران سے متعلق بڑا اعلان کر دیا،تہران کا مستقبل دائو پر لگ گیا

Advertisements

امریکا کی طرف سے ایران پر عائد کی جانیوالی اقتصادی پابندیوں نے تہران کے حامی ملکوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خلیجی ریاست قطر نے بھی امریکی پابندیوںکے خوف سے ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کم کردیا ہے۔اگر حامی ممالک بھی قطر کی روش اختیار کرتے ہیں یقیناً یہ تہران کیلئے کس خوفناک جھٹکے سے کم نہیں ہو گا ، بڑا معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔ایک ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ تہران اور دوحہ کے درمیان تجارتی روابط کم ہوگئے ہیں۔ اس کی وجہ ایران پر عاید کی جانے والی امریکی پابندیاں

ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ایلنا کے مطابق قطراور ایران کے ایوان صعنت وتجارت کیچیئرمین عدنان موسو بور نے کہا کہ تین اور چار ماہ سے ایران اور قطر کے درمیان تجارتی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں۔ دونوں ملکوںکے درمیان لین دین میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت امریکا کی طرف سے ایران پرعاید کی جانے والی معاشی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ جب اس حوالے سے قطری حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ دوحہ ایران کے حوالے سے امریکی وزارت خزانہ کی قراردادوںپرعمل درآمد کرے گا۔ قطری عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ہم تہران کو صرف خوراک اور اداویات فراہم کریںگے۔اس سے قبل ہم تہران کو زرعی اجناس اور دیگر غذائی مواد بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی طرف سے قطر کے معاشی اور سفارتی بائیکاٹ کے بعد دوحہ نے تہران کے ساتھ اپنے تعلقات مزید بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی کوشش کی تھی مگر امریکا کی طرف سے ایران پر عاید کی جانیوالی پابندیوں کے باعث قطر کو ایران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھنے

میں دشواری کا سامنا ہے۔جولائی 2018ء کو عدنان موسوی بور نے کہا تھا تہران دوحہ کیساتھ 2020ء میں برآمدات کا حج 90 کروڑ ڈالر تک لیجانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings