Advertisement

بھری عدالت میں وکیل نے چیف جسٹس کو دھمکی دیدی ، لیکن پھر کیا ہوا؟

Advertisements

چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاہور رجسٹری میں سب انسپکٹر پر مبینہ تشدد کیخلاف کیس کی سماعت کی جس دوران سیکرٹری لاہور بار نے کہا کہ آپ 7اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے،چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ باہر جا کر دھرنہ دیں ویڈیو دیکھ کر اگلے ہفتے فیصلہ کر یں گے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا کے سب انسپکٹر پر مبینہ تشدد کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ کو شرم آنی چاہیے، اپنے والد کیخلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ صدر لاہور بار نے کہا ہمارے ساتھ پولیس نے بہت ظلم کیا، سیکرٹری سہیل مرشد نے کہا سب انسپکٹر پر تشدد وکلا نے نہیں کیا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ وکلا کیخلاف ایف آئی آر معطل کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آر معطل نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے وکلاءکے خلاف مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات معطل کرنے اور مقدمے میں نامزد وکلاکی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی ہے ۔سیکرٹری لاہور بار نے کہا کہ آپ 7اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے،چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ باہر جا کر دھرنہ دیں ویڈیو دیکھ کر اگلے ہفتے فیصلہ کر یں گے ۔چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی وڈیو آیندہ سماعت پر طلب کر لیں ہیں اور کہا کہ آیندہ سماعت پر وڈیو عدالت میں دکھا کر ذمے داروں کا تعین کریں گے۔ وکلاءنے احتجاج کرنے کا کہا تھا چیف جسٹس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں دیکھتا ہوں۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings