Advertisement

”ہمیں اس کام سے دباﺅ میں نہیں لایا جاسکتا “ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس میں چیف جسٹس نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ایسی بات کہہ دی کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

Advertisements

سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن نئی جے آئی ٹی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے طاہرالقادری کے ساتھ کھڑے وکلا کو بیٹھنے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹر طاہرالقادری سے استفسار کیا کہ کیا آپ خود دلائل دیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ جی میں خود دلائل دوں گا قانونی سوالات کیلئے میرے وکلا بھی موجود ہیں عدالت کو صرف حقائق سے آگاہ کروں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے عدالت کیلئے کوئی مقدمہ سیاسی نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیچھے کھڑے وکلا کو بیٹھنے کا حکم دیا اور کہا وکلا کی وزن بڑھاﺅ کمیٹی ہمیں دباﺅ میں نہیں لاسکتی۔

دوسری طرف
گلوکار عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے کرکٹر بننا چاہتے تھے جبکہ موسیقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کرکٹ میں دلچسپی ہونے کے باعث انہیں بچپن ہی سے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا جبکہ گھر میں بھی موسیقی کا رحجان نہیں تھا لیکن پھر ایک روز عاطف کے بڑے بھائی گھر میں ٹیپ ریکارڈر لے آئے جس کے بعد ان کا رجحان موسیقی کی جانب ہوا۔

عاطف نے بتایا کہ ابتدا میں وہ مہدی حسن، نور جہاں سمیت دیگر نامور گلوکاروں کے گانے سن لیا کرتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے پنجابی گانے بھی سنا شروع کیے۔ان کا کہنا تھا کہ موسیقی وہ والدین کی غیر موجودگی میں سنا کرتے تھے کیونکہ والدین ان کی پڑھائی لے کر خاصے حساس تھے اور یہی وجہ تھا کہ جب کرکٹ کا کھیل ان کی پڑھائی پر اثر انداز ہونے لگا تو والدین نے آگے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد عاطف نے پھر ان کا انجنئیر بنے کا ارادہ تھا۔عاطف نے بتایا کہ پہلی مرتبہ انہوں نے راولپنڈی میں آکر گانے گانے کا آغاز کیا اور اس کے بعد ان کا زیادہ رجحان مو سیقی کی جانب ہوا۔ پر زیادہ رحجان ہوا جبکہ کالج کے زمانے میں ان کے کام کو سراہا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کالج کے زمانے میں وہ زیادہ لڑکیوں کی صحبت میں رہتے تھے اور انہیں پیار کے حوالے سے تجاویز بھی دیتے تھے۔

عاطف نے بتایا کہ ایک مقابلے میں ان کے گانے ’سر کی ہے‘ نے خوب داد وصول کی۔ اس کے بعد ان کو موسیقی سے لطف ملا اور دوست کو دیکھ کر گیٹار بجانا بھی سیکھ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے سینیرز کے ساتھ مل کے جل بینڈ بنایا اور پہلی بار مکڈونلڈ میں کام کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ الحمرہ انڈس میوزک کے ایورڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ سمینہ پیرزادہ سے ملے اور ان کو اپنی موسیقی کی سی ڈی دی۔ تب ہی سمینہ پیرزادہ نے کہا تھا کہ یہ لڑکا ستارہ بنے گا۔

عاطف اسلم نے بتایا کہ سمینہ پیرزادہ نے پہلی مرتبہ ہوائی جہاز میں انہیں بتایا کہ ان کی آواز منفرد ہے۔اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ وہ چار بھائی ہیں جبکہ ان کی کوئی بہن نہیں اسی لیے زندگی میں بہن کی کمی بہت محسوس کی۔ وہ اپنے بھائیں میں سب سے چھوٹے تھے۔ وہ اپنے بڑے دو بھائیوں سے زیادہ قریب نہیں تاہم تیسرے سے بہت قریب ہیں۔عاطف اسلم کےدادا کا خاندان وزیرآباد میں ہے اور وہ وزیر آباد میں ہی پیدا ہوئے تاہم پھر والد کی نوکری کی وجہ سے لاہور ماڈل ٹائون میں آئے۔انہوں نے بتایا کہ ان کو بچپن میں روز ایک کھلونا ملتا اور اب ان کا بیٹا بھی وہی کھلونے خریدتے جو وہ اپنے بچپن میں لیتے رہے۔

ان کا کہنا تھا ان کی پہلی محبت کا اثر ان پر آج تک ہے پر وہ اسے محبت کا نام نہیں دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ جل کا نام انہوں نے اپنی پسندیدہ چیزوں سے رکھا ایک دوست جسے وہ بلو کے نام سے مخاطب کرتے تھے دوسرا پانی اور ان کا پسندیدہ رنگ نیلا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings