Advertisement

آئی ایم ایف سے مذاکرات حکو مت پا کستانی عوام کیسا تھ اب کیا کر نے جا رہی ہے ؟ جان کر سب کو ہو ش اڑ گئے

Advertisements

 آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتیجے میں عوام پر نئے ٹیکس بوجھ ڈالنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے پاکستانی وفد کے دبئی میں مذاکرات ہوئے ۔ ان مذاکرات میں 5 نکاتی فارمولے پر اتفاق ہوگی۔ ذرائع کے مطابق 231 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں پر معاہدہ جلد ہوگا۔یہ تمام ٹیکس بجٹ میں لگیں گے لیکن بجلی، گیس کے نرخ بڑھانے پر معاہدہ نہیں ہوا۔ جبکہ اضافی ٹیکس رقوم انتظامی طریقوں سے حاصل کی جائیں گی۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان دبئی میں مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پروگرام پر تقریباً معاملات طے پا گئے ۔عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے لیے وقت کے تعین پر اختلاف ہے ۔

پاکستان آئندہ بجٹ تک آئی ایم ایف کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروارہا ہے ۔ آئی ایم ایف فوری طور پر اپنے مطالبات پر عمل درآمد چاہتا ہے ۔ فریقین نے معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ آئندہ بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے فوری بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبات میں روپے کی قدر، شرح سود، ٹیکس وصولیوں کا ہدف شامل ہے ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف آئی ایم ایف کے مطالبے کے مطابق مقرر کیا جائے گا،پاکستان نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے قرض کی وجہ سے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے فوری معاہدہ نہ کرنے فیصلہ کیا۔ آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں عوام پر 231 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لاگو ہونے کا امکان پیدا ہو گیاہے جس پر عوام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings