Advertisement

آپ نے اسامہ بن لادن والی امریکی کارروائی کو سفاکانہ قتل کیوں کہا ؟

Advertisements

آپ نے اسامہ بن لادن والی امریکی کارروائی کو سفاکانہ قتل کیوں کہا ؟‘ امریکی خاتون صحافی نے یہ سوال پوچھا تو عمران خان نے آگے سے ایسا دبنگ جواب دے دیا کہ 22کروڑ پاکستانیوں کا سینہ چوڑا ہو گیاامریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران خاتون صحافی نے عمران خان سے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے حوالے سے سوال پوچھا تو انہوں نے دبنگ جواب دیا۔ عمران خان نے کہا کہ اس آپریشن میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا معاملہ نہیں تھا.

بلکہ معاملہ پاکستان پر بھروسہ نہ کرنے کا تھا۔ یہ بہت ہی شرمناک تھا کہ ہم اپنے فوجی اور عام شہریوں کو بم دھماکوں میں صرف اس لیے مروا رہے ہیں کیونکہ ہم امریکی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں لیکن بدلے میں ہمارے اتحادی نے ہم پر اسامہ بن لادن کے آپریشن کے بارے میں بھی بھروسہ نہیں کیا۔ امریکہ کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کو بتانا چاہیے تھا، مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں یا وہ ہمارا دشمن ہے۔ عمران خان نے کہاکہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کے قتل کو سفاکانہ کہا ہو۔ لیکن انہیں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت نے ذلت و رسوائی محسوس کی کیونکہ ہم پر بھروسہ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کا شہباز شریف کیلئے کوٹ لکھت جیل میں بی کلاس کے تحت ٹی وی اخبار، بستر، برتن سمیت دیگر سہولیات دینے کا فیصلہ، محکمہ داخلہ پنجاب نے بی کلاس کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔پنجاب حکومت کی جانب سے شہباز شریف کو پاکستان جیل خانہ جات قوانین 1978ء کے رُول 242 کے تحت بی کلاس کی سہولیات دی گئی ہیں۔ بی کلاس کے تحت شہباز شریف کو جیل میں ٹی وی، اخبار اور بستر کی اجازت دے دی گئی۔اپوزیشن لیڈر کو کھانا منگوانے کی سہولت میسر ہوگی، بیرک میں کرسی اور میز رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ شہباز شریف کو جیل کے کچن کے ساتھ بیرک میں رکھا گیا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے بی کلاس کی سہولیات دینے کے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نیب دفتر سے شہباز شریف کا کمبل، ادویات اور ڈائری کوٹ لکھپت جیل پہنچا دی گئی ہیں۔

شہباز شریف کی نیب حوالات میں استعمال کی اشیا جیل حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ڈاکٹروں نے طبیعت ناسازی کے باعث آرام دہ اور ہوادار کمرے اور بروقت ادویات کھانے کی ہدایت دے رکھی ہے۔دوسری جانب جناح ہسپتال کی میڈیکل ٹیم نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا جیل میں چیک اپ کیا۔ جنرل سرجن پروفیسر طیب عباس 4 رکنی ٹیم کے سربراہ تھے۔میڈیکل ٹیم کو شہباز شریف کی کمر اور گردن کے مہروں کے چیک اپ کی ہدایات دی گئی تھیں۔ ٹیم میں آرتھو پیڈک پروفیسر راشد سعید، آنکالوجسٹ پروفیسر محمد اکرم سمیت میڈیسن پروفیسر شامل تھے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings