Advertisement

میں وزیراعظم کوسلام پیش کرتاہوں مولاناطارق جمیل کانفرنس کے دوران عمران خان

Advertisements

میں وزیراعظم کوسلام پیش کرتاہوں مولاناطارق جمیل کانفرنس کے دوران عمران خان کے کس کام کی تعریف کرتے رہے ؟جانیے مولانا طارق جمیل نے ’’بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ‘‘ کے موضوع پر سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی تعریف کردی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بڑھتی آبادی کے معاملے پر غور کے لیے آج سپریم کورٹ میں اہم کانفرنس ہو رہی ہے جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم عمران خان ہیں۔جب کہ سا بق اعلی عدلیہ کے جج صاحبان ،

ماہرین اور دیگر اسٹیک پولڈرز بھی شریک ہیں۔اس کے علاوہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ بھی کانفرس میں شریک ہیں۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کا ’’بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ‘‘ کے موضوع پر سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا عمران خان پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرح بنا لیں گے تو

میں نے کہا کہ بنانے والا تو اللہ ہے ہم تو اپنی طاقت سے تنکا بھی نہیں اٹھا سکتے ہاں البتہ حکمران کی نیت کا اثر ضرور پڑتا ہے۔اور یہ پہلا حکمران ہے جس نے مدینہ کی فلاضی ریاست کا تصور پیش کیا اس لیے میں اس کو سلام پیش کرتا ہوں اور یہ کام کرنے والا تو اللہ ہے لیکن حکمران کی نیت کا اچر پورے ملک پر پڑتا ہے۔عمران خان پہلا شخص ہے جس نے کہا کہ میں پاکستان کو مدینہ جیسی فلاح ریاست بناؤں گا تو انشاء اللہ اللہ تعالیٰ بنائے گا۔وزیراظم عمران خان کی تعریف کرنے پر عمران خان بھی مسکرا اٹھے۔ممتاز مبلغ اسلام اور عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ آبادی میں اضافہ کی بڑی وجہ غربت اور معاشرتی دبائو ہے، فلاحی ریاست کی روح مضبوط معیشت ہے۔، انشاء الله پاکستان مدینہ کی فلاحی ریاست ضرور بنے گا، نظام عدل کی مضبوطی سے ہی امن آ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ کی وجہ غربت اور معاشرتی دبائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالوں گزر جاتے ہیں ایک کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا، فاضل جج صاحبان اپنا کام خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں، الله انہیں اور ہمت اور توفیق عطاء فرمائے کیونکہ نظام عدل کی مضبوطی سے ہی امن آ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس سے سیاسی دبائو ختم کرنا ہو گا۔ انہوں نے دعا کی کہ الله ہماری بستی کو امن والی بستی بنائے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ فلاحی ریاست کی روح مضبوط معیشت ہے، معیشت اسی وقت مضبوط ہو گی جب ہر تاجر انفرادی طور پر اس کیلئے کوشش کرے گا اور وہ جھوٹ، جواء، سود، سٹہ اور بے ایمانی سے اجتناب کریں گے۔ انہوں نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے،

ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور سود خوری سے اجتناب کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کیلئے امن ضرور ہے اور امن کے قیام کیلئے علم کا ہونا انتہائی ضروری ہے اور انفرادی سطح پر علم اس لئے لازم ہے کہ اس کے ذریعے چور کو چوری سے روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا منصوبہ بندی سے بھی بڑا مسئلہ علم کی کمی ہے۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings