Advertisement

انتہا پسند ہندوﺅں نے امام مسجد کے بیٹے کو بے دردی سے مار ڈالا، پھر ہزاروں مسلمان بدلہ لینے کے لئے اکٹھے ہوئے تو امام مسجد نے کیا بات کہی کہ سب چپ چھاپ گھر واپس چلے گئے؟ جان کر آپ کو اس باپ کے حوصلے کا یقین نہیں آئے گا

Advertisements

جس باپ سے اس کا نوجوان بیٹا چھین لیا جائے اس کے غم و الم کا کیا عالم ہو گا اس کا تصور بھی کرنا ممکن نہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے امام مسجد محمد امداد اللہ کے ساتھ یہی سانحہ پیش آیا کہ ان کے 16 سالہ بیٹے کو شدت پسندوں کے ایک ہجوم نے سرعام تشدد کر کے مار ڈالا۔ جب ان کے بیٹے کے جنازے کے موقع پر ہزاروں مسلمانوں کے جذبات قابو سے باہر ہونے لگے تو عین اس وقت مظلوم باپ نے ایسا اعلان کر دیا کہ جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔

’دی ہندو‘ کے مطابق امام محمد امداد اللہ کے بیٹے محمد صبغت اللہ کو ایک ہفتہ قبل اس وقت جنونی ہجوم نے قتل کردیا جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ قریبی مسجد جانے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ صبغت اللہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگانے والے شدت پسند ہجوم کے نرغے میں آگئے اور انہیں بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ جب شہید صبغت اللہ کے جنازے کا موقع آیا تو ہزاروں مسلمانوں کے جذبات قابو سے باہر ہونے لگے اور سنگین خطرہ پیدا ہو گیا کہ شہر میں ہندومسلم فسادات شروع ہو جائیں گے۔ اس موقع پر صبغت اللہ کے غمزدہ والد امام محمد امداد اللہ لاﺅڈ سپیکر پر ہجوم سے مخاطب ہوئے اور اعلان کیا ”اگر تمہیں مجھ سے پیار ہے تو شدت پسندی میں مت پڑنا اور امن وامان قائم رکھنا۔ میں مزید جانوں کا ضیاع نہیں چاہتا۔ اگر تم لوگ تشدد کی جانب مائل ہوئے تو میں یہ مسجد اور یہ شہر ہی چھوڑ جاﺅں گا۔“ ان کے اس اعلان نے مشتعل ہجوم کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے شدید غصے اور اشتعال کے باوجود خاموشی کے ساتھ گھروں کو لوٹ جائیں۔ امام محمد امداد اللہ کے اس حیرتناک اقدام پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما دلیپ گھوش بھی انگشت بندنداں رہ گئے۔ دی ہندو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ”انہوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے ایک مثال قائم کردی ہے۔ اپنے بیٹے کی موت کے باوجود انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ حالات بے قابو نہ ہوں۔“

راشٹریہ سوائم سیونگ سنگھ کے ایک رہنما نے بھی کچھ اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”اگر انہوں نے ہجوم سے اس طرح کی بات کی ہے تو یہ قابل تعریف ہے۔ اصولوں کی بنیاد پر مثبت موقف اختیار کرنے والے ہر شخص کی ہم عزت کرتے ہیں۔“ بنگالی مصنف جویا مترا کا کہنا تھا ”اگر امام محمد امداد اللہ فوری مثبت ردعمل کا اظہار نہ کرتے تو حالات بہت خراب ہوجاتے۔“

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings