Advertisement

ہواوے پرامریکی پابندیاں ،پاکستانی صارفین پراس کاکیااثرہوگا،جانیں

Advertisements

امریکا کی جانب سے چینی کمپنی ہواوے پر پابندی سے اسمارٹ فون صارفین بھی پریشان ہیں اور اس فیصلے سے پاکستان میں بھی ہواوے صارفین متاثرہو سکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے چینی کمپنی ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد گوگل نے ہواوے سے رابطے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اگرچہ یہ پابندی اب 90 روز کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے لیکن اگر یہ پابندیاں لگتی ہیں تو ہواوے کے صارفین کو جی میل،

گوگل میپس جیسی ایپلی کیشنز تک رسائی نہیں ملے گی۔ذرائع کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے دیگرملکوں کی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں ہواوے فون سیٹس گوگل سافٹ وئیر اپ ڈیٹ نہ ہونے سےمتاثر ہوں گے، تاہم پاکستانی صارفین پرانے سافٹ وئیر سے موبائل چلاسکتے ہیں۔ہواوے کا کہنا ہے دنیا بھر میں اپنے صارفین کو متبادل اور پائیدار سافٹ وئیرسسٹم دیا جائے گا جب کہ موجودہ فون سیٹس کو بعد از فروخت سروس فراہم کرتے رہیں گے۔لیکن سافٹ وئیر اپ ڈیٹ نہ ہونے سے ہواوے موبائل سیٹس خاص مدت کے بعد ناکارہ ہوسکتے ہیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کےسینئر حکام نے جیونیوز کو بتایا ہےکہ یہ معاملہ ایک نجی کمپنی ہواوے اور امریکی کمپنی گوگل کےدرمیان ہے،پی ٹی اے یا کسی حکومتی ادارے کا اس معاملے سے تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اس سلسلے میں کوئی مداخلت کرسکتے ہیں۔

معروف شہر میں ایک شخص کو ڈیڑھ کلو کا پتھر ملا ، تحقیق پر وہ پتھر دراصل کیا چیز نکلی

معروف شہر میں ایک شخص کو ڈیڑھ کلو کا پتھر ملا ، تحقیق پر وہ پتھر دراصل کیا چیز نکلی ، دیکھنے والے سارے لوگ ششدر ۔۔سونے کے متلاشی آسٹریلوی شخص کو کالگورلئی شہر سے 1.4 کلو گرام وزنی سونے کا پتھر ملا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شوقیہ طور پر سونے کی تلاش کرنے والے آسٹریلوی شہری نے کالگورلئی سے دھاتوں کا سراغ لگانے والے عام سے آلے (میٹل ڈٹیکٹر) کی مدد سے تقریباً ڈیڑھ کلوگرام وزنی اور 18 انچ لمبا سونے کا پتھر ڈھونڈ نکالا ہے۔ آسٹریلوی شہری نے سونے کے پتھر کو سونے کے ایک تاجر کو دکھایاتو اس نے تصدیق کرتے ہوئے سونے کے پتھر کی قیمت ایک لاکھ آسٹریلوی ڈالر بتائی جو ایک کروڑ پاکستانی روپوں سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ ان علاقوں سے سونے کے ذرات ملتے رہتے ہیں تاہم اتنا وزنی اور بڑا سونے کا پتھر کبھی نہیں ملا۔

آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی میں معدنیات کے پروفیسر سام اسپیئرنگ کا کہنا ہے کہ مغربی علاقے بالخصوص کالگورلئی معدنیات سے مالا مال علاقہ ہے جہاں مختلف دھاتوں کے ذخائر موجود ہیں جن میں سونا بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ دور دراز سے لوگ اس علاقے میں آتے ہیں۔ پروفیسر اسپیئرنگ کا مزید کہنا تھا کہ سونے کے ذرات ملتے رہتے ہیں تاہم اتنا وزنی سونے کا پتھر ملنا حیران کن ہے۔ آسٹریلوی حکومت کو اس حوالے سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، قدرتی وسائل اور معدنیات سے ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

Advertisement

Source DailyAusaf

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings