’’غریب ہوں ، جوتے پالش کرکے کماتا ہوں تو کیا ہوا؟‘‘  11 سالہ طالب علم نے ’’محنت میں عظمت ہے ‘‘کی عمدہ مثال قائم کردی

HomeLatest Updates

’’غریب ہوں ، جوتے پالش کرکے کماتا ہوں تو کیا ہوا؟‘‘ 11 سالہ طالب علم نے ’’محنت میں عظمت ہے ‘‘کی عمدہ مثال قائم کردی

محنت میں ہی عظمت ہے یہ بات سچ ثابت کرکے دکھائی ہے بہاولنگر کے 11 سالہ طالبعلم نے جو تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اسکول سے واپس آنے کے بعد جوتے

”محمد عامر کو منتخب نہ کرنے پر بہت بہت شکریہ“ ڈین جونز نے ایسا کیوں کہا؟ جان کر آپ بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکیں گے
’پاکستان میں کورونا کے 70 فیصد کیسز ایران سے آئے، گارنٹی نہیں دے سکتے کہ 2 ہفتے بعد کیا ہوگا ‘
حکومت اب کسی بھی وقت گر جائے گی، وزیراعظم کا مضبوط ترین اتحادی بھی راستے جدا کرنے کیلئے تیار ہوگیا

محنت میں ہی عظمت ہے یہ بات سچ ثابت کرکے دکھائی ہے بہاولنگر کے 11 سالہ طالبعلم نے جو تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اسکول سے واپس آنے کے بعد جوتے پالش کرکے محنت مزدوری کرتا ہے ۔ بہاولنگر کے نواحی گاوں کے رہائشی 11 سالہ طالب علم نے محنت میں عظمت ہے کی عمدہ مثال قائم کردی ہے۔11 سالہ طالبعلم محمد مزمل تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے لوگوں کے جوتے پالش کرکے محنت مزدوری کرتا ہے۔محمد مزمل کا والد مزدوری کرتا ہے جسکی وجہ سے گھر کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔محمد مزمل چوتھی کلاس

کا طالبعلم ہے جو تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے مختلف دفاتر میں جاکر جوتے پالش کرتا ہے سالہ طالبعلم محمد مزمل کا تعلق نواحی گاوں مٹی رویہ سے ہے۔محمد مزمل صبح کے وقت سکول جاتا ہے اور سکول سے واپسی پر وہ شہر آجاتا ہے جہاں مختلف دفاتر میں وہ لوگوں کے جوتے پالش کرتا ہے تاکہ اسکے تعلیمی اخراجات پورے ہوسکے اور وہ اپنی تعلیم حاصل کرسک محمد مزمل نے گاوں کے ایک غریب گھر میں آنکھ کھولی ہے اور خود بھی ابھی بہت چھوٹا ہے لیکن اس نے اپنی آنکھوں میں خواب بڑے سجا لئے ہیں۔محمد مزمل بڑا ہوکر جج بننا چاہتا ہے تاکہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرسکے اسی لئے محمد مزمل روز عدالت تو ضرور آتا ہے لیکن ابھی وہاں آکر وہ صرف لوگوں کے جوتے پالش کرکے مزدوری کرتا ہے محمد مزمل جیسے طالبعلم ہمارے معاشرے کے لئے محنت میں عظمت کی بہترین مثال ہے۔محمد مزمل کے خوابوں کی تکمیل پورا کرنا حکومت وقت کے ساتھ ساتھ صاحب حیثیت افراد کی بھی زمداری ہے۔‎

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0