Advertisement

پاکستان نے تو کرتار پور راہداری کھول دی جواب میں الیکشن سے پہلے ہی بھارت اب نے کیا کام شروع کر دیا برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں لوگوں کےلئے بڑی خبر

Advertisements

پاکستان نے کرتار پور راہداری کھول کر کروڑوں بھارتی سکھوں کو ممنون ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے ،جس پر مودی سرکار کو لوہے کے چنے چبانے پڑ گئے ہیں اور بھارتی میڈیا اور حکومت دونوں ہی پاکستان کے اس اقدام کو سیاسی چال اور سازش کا رنگ دینے کی مذموم کوشش کررہے ہیں تاہم کچھ بن نہ پڑنے پر نریندر مودی نے اب پینترا بدلتے ہی معاملے کا ایک الگ ہی پہلونکال لیا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کرتار پور راہداری کھولنے

کا سارا کریڈٹ خود لے کر اسے الیکشن سے قبل سیاسی فائدے کےلئے استعمال کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1947ءمیں کرتار پور پاکستان کو دے کر بہت بڑی غلطی کی، کرتار پور پاکستان کو دینا ہی نہیں چاہیے تھا، کرتار پور ہندوستان میں ہونا چاہیے تھا۔
دوسری طرف
حضرت یونس ؑ کے مزار کو داعش نے جونہی دھماکے سے اڑایا تو نیچے کیا چیز نکلی ؟جانیں۔۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک تاریخی مقبرے کے نیچے سے ایک تین ہزار سال پرانا محل دریافت ہوا ہے،شمالی عراق کے شہر موصل کی ایک پہاڑی کو نبی حضرت یونس کی پہاڑی کہا جاتا ہے۔یہ جگہ صدیوں سے عبادت کا مقام رہی ہے۔ ابتدائی مسیحی دور میں یہاں ایک خانقاہ قائم ہوئی اور پھر 600سال بعد اسے حضرت یونس کے

مقبرےمیں تبدیل کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جولائی 2014 میں اس مقبرے کو شدت پسندتنظیم دولت اسلامیہ نے دھماکے سے اڑا دیا۔شدت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ حضرت یونس کا یہ مقبرہ عبادت گاہ نہیں بلکہ مشرکین کا اڈہ بن گیا تھا۔اس مقبرے کی تباہی کی فوٹیج دنیا بھر میں دکھائی گئی۔ پیغام واضح تھاکہ کوئی بھی مقدس مقام دولت اسلامیہ کی شدت پسندی سے محفوظ نہیں ہے۔لیکن حضرت یونس کے مقبرے کی تباہی سے اس تاریخی پہاڑی کی کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک نیا رخ مل گیا۔ تباہی کے بعد یہ سوالات پیدا ہوئے کہ اس کی بنیادوں کی نیچے کیا دفن ہے۔ 2018 کے موسم بہار میں بی بی سی عربی کی ایک ٹیم ان گردآلود مگر شاندار سرنگوں میں گئی جو اس پہاڑی میں دریافت ہوئی تھیں۔اس ٹیم نے فوٹوگرامیٹری تکنیک کی مدد سے وہاں موجود اشیا کی ہائی ریزولوشن تصاویر اتاریں اور جاننے کی کوشش کی کہ اس تباہی کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کی حقیقت کیا ہے۔حضرت یونس کا نام قرآن اور عبرانی انجیل دونوں میں ملتا ہے۔ ان دونوںکتابوں کے مطابق حضرت یونس نے نینوا کا سفر کیا جو کہ اشوریہ سلطنت کا دارالحکومت تھا۔حضرت یونس کے اس سفر کا مقصد نینوا کے شہریوں کو خبردار کرنا تھا کہ اگر انھوں نے گناہوں سے توبہ نہ کی تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔بہت سے مسلمانوں کو یقین ہے کہ حضرت یونس کی ہڈیاں اس مقام پر رکھی گئی تھیں اور بعد میں اس پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر اس وہیل مچھلی کا دانت بھی ہے جس کے پیٹ میں روایت کے مطابق حضرت یونس رہے ۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت یونس واقعی وہاں پر دفن نہیں تھے۔ درحقیقت حضرت یونس کی قبریں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بتائی جاتی ہیں

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings