Advertisement

ملک کے موجودہ معاشی بحران کے پیش نظر اخراجات کی کمی کیلئے فوج کا حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ

Advertisements

وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کم کرنے کیلئے سویلین اور فوج ایک پیج پر ہیں، بجٹ میں کفایت شعاری کو اپنایا جائے گا، حکومتی اخراجات کم رکھے جائیں گے، ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں، سویلین، فوج ، نجی سیکٹرزیا کاروباری شعبے ہوں۔ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنبھالی تو 31ارب روپے قرض تھا۔

زرمبادلہ ذخائر 10ارب رہ گئے تھے۔ جس کے باعث 9ارب ڈالر سے زائد پیسے کا دوست ممالک سے بندوبست کیا گیا۔ پانچ ایکسپورٹ سیکٹرز کو مراعات دی گئیں۔ ڈیوٹی لگا کردرآمدات 2ارب کم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بہت اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹامپ پیپر پر سمجھوتہ ہوگا۔

پروگرام لون دو سال سے رکے ہوئے تھے۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے پروگرام لون لے سکیں گے۔

آئی ایم ایف رکن ملکوں کی مدد کیلیے بنایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوا، جلد آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی منظوری دے گا۔ آئی ایم ایف 6 ارب ڈالرکا پروگرام تین سال کیلئے ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض3.2 فیصد شرح سود پر ملے گا۔آئی ایم ایف پروگرام سے دنیا کو مثبت پیغام جائے گا۔ آئندہ سال معیشت کے استحکام کا سال ہوگا، اسٹاک ایکسچینج نے 10سال ریکارڈ توڑ دیا۔

صرف چند روز میں 7 فیصد بہتری آچکی ہے۔ کاروباری افراد کا اعتماد بحال کریں گے۔ اعتماد بحال ہونے سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ اایمنسٹی اسکیم بہت آسان بنائی ہے۔ اسکیم کے تحت کیش ہے تو بینک میں دکھانا ہوگا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاک فوج اور سویلین ادارے سب ساتھ ہیں۔ ایک لاکھ کمپنیز ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، لیکن اس میں آدھی بھی ٹیکس نہیں دیتیں۔

ایف بی آر کو 5ہزار 550ارب کا ہدف دیا گیا ہے۔ صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ اسی طرح 5 کروڑ بینک اکاؤنٹ ہیں۔ لیکن صرف دس فیصد اکاؤنٹ ہولڈرز ٹیکس بھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کومت نے نئے ذرائع سے ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ بجٹ میں کفایت شعاری نظر آئے گی۔

بجٹ میں حکومتی اخراجات کم سے کم رکھیں گے۔ بجٹ میں آمدنی کا ہدف 550 ارب ہوگا۔ بجٹ میں عام لوگوں پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے ذرائع سے ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ 28 ممالک سے 1لاکھ 52 ہزار پاکستانیوں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ 50 لاکھ گھروں کے ہاؤسنگ پروگرام سے 28سیکٹرز میں ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔

اب مالی معاملات پر کام ہورہا ہے، اگلے سال تعمیراتی کام شروع ہوجائے گا۔ نوجوان پروگرام کیلئے 100ارب رکھے جا رہے ہیں، زرعی شعبہ ایسا ہے جہاں نوکریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اسی طرح مینوفیکچرنگ میں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ ترقیاتی منصوبے سڑکیں اور ڈیمز و دیگر منصوبے بھی تعمیر کریں گے۔ جس کیلئے 925ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام دیا جا رہا ہے۔ بجلی صارفین کیلئے300ارب اور احساس پروگرام کیلئے180ارب رکھے گئے ہیں۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings