Advertisement

گرمی کو شکست دیں ان آسان گھریلو ٹوٹکوں کو آزمائیں؟

Advertisements

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)سورج کی تپش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور لوڈ شیڈنگ نے گرمی کی شدت کو مزید بڑھانا شروع کردیا ہے. کیا آپ کو بہت زیادہ گرمی لگتی ہے ؟ اگر ہاں تو یہ چند آسان نسخے آزما کر آپ اس کی شدت کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں

کپڑے

ایسے کپڑے پہننے کو ترجیح دیں جو ڈھیلے ہوں اور ایسے میٹریل سے بنے ہوں جو ‘ سانس لے سکتا ‘ ہو، یعنی کاٹن یا لینن وغیرہ

پانی

جسم کی نمی کے لیے پانی بہت ضروری ہے اور گرمی میں تو پانی کی بوتل یا گلاس کو ہر وقت اپنے پاس رکھیں اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کو ترجیح دیں.
بستر کو اے سی بنائیں

اس کا ایک آسان طریقہ ہے، ایک کاٹن کی جراب کو چاولوں سے بھر کر فریزر میں رکھ کر جما دیں اور سونے سے کچھ دیر پہلے بستر اور چادر کے درمیان پھیلا دیں، یہ چاول ٹھنڈک کو بہت دیر تک برقرار رکھتے ہیں

اپنا دیسی اے سی بنائیں

پانی کی ایک یا دو بوتلوں کو فریزر میں جمائیں اور فرشی یا ڈیسک پنکھے کے سامنے رکھ دیں اور پھر آپ اسے عارضی اے سی سے زیادہ دیر تک ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے سکیں گے. اگر پانی میں نمک کا اضافہ کرکے جمایا جائے تو یہ زیادہ دیر تک ٹھنڈک برقرار رکھتی ہیں.
جسمانی پریشر پوائنٹس سے گرمی بھگائیں
جسمانی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے ایک ٹھنڈے پانی کی بوتل کو پریشر پوائنٹس جیسے کلائیوں، گھٹنوں کے پیچھے اور ایڑیوں میں رکھیں اور گرمی کے دور بھاگنے کا احساس محسوس کریں

ٹھنڈی چادریں

اپنے بیڈ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چادروں اور تکیوں کے کور کو پلاسٹک بیگز میں ڈال کر کچھ گھنٹے کے لیے فریزر میں چھوڑ دیں، سونے سے کچھ دیر پہلے انہیں بستر پر بچھا دیں اور میٹھی نیند کا مزہ لیں

ورزش کے مخصوص اوقات

ورزش کے لیے دن کے ٹھنڈے اوقات کا انتخاب کریں یعنی علی الصبح یا رات ڈھلنے کے بعد اور زیادہ سخت ورزشوں سے گریز کریں

کھانا

ایسی غذاﺅں کو ترجیح دیں جنھیں پکانے کی ضرورت نہ ہو تاکہ آپ کا جسمانی درجہ حرارت معمول رہ سکے.
ٹھنڈے پانی سے نہانا
اگر کسی چیز سے گرمی دور نہ بھاگے تو اپنے جسمانی درجہ حرارت اور پسینے سے نجات کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹھنڈے پانی سے نہانے کو ترجیح دیں

Advertisement

Source dailyqudrat.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings