Advertisement

ڈاکٹر شاہد مسعود کا جرم کیا؟۔۔ حامد میر کے سوال پر جانتے ہیں وزیراعظم کا کیا جواب تھا

Advertisements

: نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ مجھے ایک بات کا بہت دکھ ہوا۔ ہمیں ڈاکٹر شاہد مسعود سے بے پناہ اختلافات ہوسکتے ہیں ، اکثر ہم نے اپنے پروگراموں میں بھی بعض مرتبہ ان سے اختلاف ظاہر کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں نے سب سے پہلا پروگرام شروع کیا تھا اور ان کی اپنی قابلیتیں اور صلاحیتیں بھی ہیں، اگرچہ آپس میں ہمیں ایک دوسرے سے اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ ایک قدرتی بات ہے ۔


لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے بہت سے قریبی لوگ بھی ان سے ملاقات کے لیے نہیں گئے۔ آپ جب کسی کُرسی پر ہوتے ہیں تو بہت سے لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں لیکن بعد میں مصیبت آنے پر کوئی نہیں ملتا۔ جنہوں نے پی ٹی وی میں مبینہ کرپشن کی تھی، انہوں نے پیسے واپس کر دئے ہیں۔ ریکوریز ہو گئی ہیں ان کی ضمانت بھی ہو گئی ہے لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود زیر عتاب ہیں۔

مجھے پتہ چلا کہ حامد میر نے وزیراعظم عمران خان سے بات کی کہ خان صاحب ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ حامد میر کے فون کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی ایف آئی اے سے بات کی۔ حالانکہ ریکوریاں دوسرے لوگوں سے ہوئی ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد مسعود کی ضمانت کی سب سے بڑی مخالفت پی ٹی وی کے وکیل اور ایف آئی اے کی جانب سے کی گئی۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کسی بہت بڑے آدمی کی گستاخی کر بیٹھے ہیں اور اب وہ اس صورت میں خمیازہ بھگت رہے ہیں۔


اب وہ بڑا بندہ کون ہے اس حوالے سے کئی چہ مگوئیاں ہوں گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر میں پی ٹی وی کرپشن کیس میں عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ سابق ایم ڈی پی ٹی وی شاہد مسعود کو ڈیوٹی جج محمد انعام اللہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔23 نومبر کو پی ٹی وی کرپشن کیس میں سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی ڈاکٹر شاہد مسعود کو عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد دسمبر میں اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو صحافی سے بدتمیزی کرنے اور موبائل چھیننے کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ حفیظ احمد کے روبرو پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد سے کئی مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیشی کے لیے لایا جاتا رہا ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings