Advertisement

وہ 2امراض جن کے بارے میں ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس حالت میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے

Advertisements

دل انسانی جسم کا سب سے نازک اور طاقتور حصہ ہے ، دل کے عارضے میں مبتلا افراد روزہ رکھ کر ماہ صیام کی برکتیں ضرور سمیٹیں لیکن اس کے لئے انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی.ماہرین طب تجویز کرتےہیں کہ ایسےمریض جنہیں دل کا دورہ پڑچکا ہو،انجیوپلاسٹی یا بائی پاس سرجری کرائے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہو،اگر وہ روزمرہ کے کام کرنے کے قابل ہیں تو مصروفیات محدود کر کے روزہ رکھ سکتے ہیں. طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ دل کے مریض افراد معالج کےمشورے سے روزہ رکھیں تو سحر و افطار میں دوالیں اور مشقت والے کاموں سے بچیں.ماہرین کے مطابق امراض قلب کے شکار افراد کو افطار کے وقت زیادہ کھانے سے بھی اجتناب کر نا چاہئے لیکن افطار سے سحر کے دوران تھوڑا تھوڑا کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا ان کی انرجی کو بحال رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے. ڈاکٹر کہتے ہیں شوگراور گردے کے امراض میں مبتلا افراد کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے.کیوں کہ ان کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے،زیادہ کھانے کی وجہ سے بھی ہسپتالوں میں رش رہتا ہے،طبی ماہرین کہتے ہیں کہ

گھی اور مصالحے دار کھانا نقصان دہ ہے،رمضان المبارک صبر کا درس دیتا ہے چاہے وہ روز مرہ کے معاملات ہوں یا کھانا پینا،اسی لیے ماہرین طب متوازن غذا کےاستعمال کا مشورہ دیتے ہیں.

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings