Advertisement

دانتوں کا درد چٹکیوں میں غائب

Advertisements

دانتوں میں درد ہوجائے تو انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے،جو لوگ اس تکلیف سے گزرچکے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دانت کے درد کی وجہ سے رات کی نیند بھی حرام ہوجاتی ہے۔ڈاکٹروں سے رابطہ ممکن نہ ہوتوآپ ذیل میں دئیے ہوئے طریقے سے دانت کے درد سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔
اجزاء
لونگ پاﺅڈر
ناریل کا تیل
دونوں اجزاءکے بڑے آدھے چمچ لے کر گلاس میں مکس کریں اور ایک پیسٹ سی بنالیں۔اس کو درد والے دانت میں لگانے سے فوری طور پر آپ سکون محسوس کریں گے۔یہ پیسٹ تین دن دانتوں پر لگایا جاسکتا ہے،آرام آنے کے بعد آپ چاہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے دانت کا علاج کرواسکتے ہیں۔
قبض دور کرنے کیلئے بہترین حل
قبض کو اُم الامراض یعنی ’’تمام بیماریوں کی ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ متعدد امراض کی وجہ ہے اور ہر عمر کے افراد کو لاحق ہوسکتا ہے۔ کم سن بچے بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جس کا علاج بہت ضروری ہے۔ اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے، تھوڑی تھوڑی ہو یا دو تین روز کے بعد آئے تو اسے قبض کہا جاتا ہے۔ بڑوں کی طرح شیرخوار بچوں کو بھی قبض کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اگر بچہ ایک ہفتے میں کم از کم تین بار اجابت نہ کرے، اجابت کرتے ہوئے فضلہ بہ آسانی خارج نہ ہوتا خارج نہ ہوتا ہو، فضلہ خشک اور سخت ہو تو یہ قبض کی علامت ہے۔

شیرخوار یا گھٹنوں کے بل چلنے والے بچے کو قبض ہوجائے تو وہ تھکا تھکا دکھائی دیتا ہے، بہت زیادہ حرکت نہیں کرتا اور چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ شیرخوار اور چھوٹے بچوں کو قبض ہونے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں مگر بعض اوقات بظاہر اس کا کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب بچے کو ریشہ دار پھل، سبزیاں اور دلیے مطلوبہ مقدار میں نہ دیئے جارہے ہوں۔ پانی مطلوبہ سے کم مقدار میں پلایا جارہا ہوں یا انہیں دودھ زیادہ مقدار میں دیا جارہا ہو اور وہ گھر پر یا اسکول میں ٹوائلٹ استعمال کرنے سے خوف کا شکار ہوں۔ بہت کم صورتوں میں شیرخوار اور چھوٹے بچوں میں قبض کی وجہ کوئی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ علاج بچوں کی غذا میں تبدیلیاں اور انہیں اجابت کرنے کی صحیح طور سے تربیت دے کر قبض سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ قبض کا علاج شروع کرنے کے اثرات چند روز کے بعد اور بعض اوقات چند ہفتوں کے بعد ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ قبض میں مبتلا بچے کو پانی زیادہ مقدار میں پلائیے۔ اگر اس نے ابھی ٹھوس غذا کھانی شروع نہیں کی ہے تو دودھ پلانے کے درمیانی وقفوں میں اسے پانی پلائیے۔

اگر آپ ڈبے کا دودھ دے رہے ہیں تو اس میں اضافی مقدار میں پانی ملانے کی ضرورت نہیں۔ آنتوں کو متحرک کرنے کےلیے بچوں کی ٹانگوں کو سائیکل چلانے کے انداز میں حرکت دیجیے اور دھیرے دھیرے ان کے پیٹ کو سہلائیے۔ بڑے بچوں کو پانی اور مشروبات زیادہ مقدار میں دیجیے اور انہیں پھلوں کی طرف راغب کیجیے۔ سیب، انگور، ناشپاتی، آڑو، اسٹرابیری اور انجیر قبض میں مفید ہیں۔ ان کوششوں کے باوجود اگر قبض میں افاقہ نہ ہورہا ہو تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings