Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی تعلیمی قابلیت کیاہے ؟سپریم کورٹ کے باہر ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

Advertisements

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی پیشے سے وکیل ہیں اور ہائیکورٹ بار کے ممبر بھی ہیں ، عدالت کا احترام کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی پریقین رکھتے ہیں،جب بھی بلائیں گے حاضر ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار رضوان گوندل تبادلہ کیس پر چیف جسٹس کی جانب سے طلب کیے جانے پر سپریم کورٹ پیش ہوئے جس کے بعدسپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پیشی پربھی سپریم کورٹ میں پیش ہونا چاہتا تھا

اور عدالت کے سامنے تمام حقائق سامنے رکھنا چاہتا تھا۔ صحافی نے رضوان گوندل کیس سے متعلق سوالات کرنا چاہے تو عثمان بزدار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس پر بات کرنا مناسب نہیں ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ پولیس کوغیرسیاسی بنانے کے لیے کمیشن نے اپنا کام شروع کردیا ہے ۔صحافی نے سوال کیا کہ ڈی پی اوکے تبادلے میں آپ کاسیاسی دباو¿ سامنے آجائے توکیااپناعہدہ چھوڑیں گے؟ جس پر وزیراعلیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیس زیرسماعت ہے اس پربات نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو روسٹرم پر بلا لیا۔چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب! آپ لوگوں کوبلاکرسفارشیں کرتے پھرتے ہیں؟ آپ پولیس افسران پردباؤ اوررعب ڈالتے ہیں؟۔

عثمان بزدار نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے 3 روزبعدمعاملہ نوٹس میں آیا،میں نے کہادوستانہ ماحول میں مسئلہ حل کریں، آئی جی صاحب اسلام آبادمیں تھے،افسران کوخودملناچاہتاتھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ افسران سے ملیں مگراحسن جمیل گجرکودفترکیوں بٹھایا؟کلیم امام !آپ نے پولیس کوبے عزت کرایا،وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آرپی اوکواپنے ہاتھوں سے چائے پیش کی،احسن گجر نے کہایہ بچے ہمارے نہیں،آپ کے ہیں۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings