Advertisement

چیف جسٹس کے سخت ترین ریمارکس، غریدہ فاروقی سے تنقید برداشت نہ ہوئی ، جانتے ہیں غصے میں کیا کام کر ڈالا؟ بڑی خبر آگئی

Advertisements

گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے نجی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی کی ڈیم مخالف پروگرام کرنے پرسرزنش کی تھی۔عدالت میں غریدہ فاروقی سے پیپرا کا مطلب پوچھا گیا تاہم وہ اس کا جواب نہ دے سکیں۔اسی متعلق معروف صحافی مبشر زیدی نے ٹویٹ کیا کہ نجی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی سپریم کورٹ پیش ہوئیں تو ان سے پوچھا

گیا کہ پیپرا کا مطلب کیا ہے. جسٹس عمر عطا بندیال کے غریدہ فاروقی سے استفسار پر وہ پیپرا کا مطلب نہ بتا سکیں۔ نجی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی سپریم کورٹ پیش ہوئیں تو ان سے پوچھا گیا کہ پیپرا کا مطلب کیا ہے. جسٹس عمر عطا بندیال کے غریدہ فاروقی سے استفسار پر وہ پیپرا کا مطلب نہ بتا سکیں جس پر غریدہ فاروقی نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط ٹکرز غلط نیت سے کاپی پیسٹ کر کے پھیلا رہے ہیں؟ یہ شرمناک ہے کہ آپ جیسا بندہ میرے خلاف پلینڈ پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ نجی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی سپریم کورٹ پیش ہوئیں تو ان سے پوچھا گیا کہ پیپرا کا مطلب کیا ہے. جسٹس عمر عطا بندیال کے غریدہ فاروقی سے استفسار پر وہ پیپرا کا مطلب نہ بتا سکیں خیال رہے گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سرابراہی میں 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے میڈیا پر ڈیم ٹھیکے سے متعلق تنقید پر پیمرا سے جواب طلب کیا ۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اینکر غریدہ فاروقی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے غریدہ فاروقی سے پیپراکا مطلب پوچھا۔ عدالت میں غریدہ فاروقی پیپرا کا مطلب نہ بتا

سکیں جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کہ آپ کو ریسرچ کون کر کے دیتا ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے اینکر غریدہ فاروقی نے کہا کہ میری ریسرچ کی پوری ٹیم ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ گندی مٹھائیوں کے لیے کوئی ٹیم نہیں بنائی۔مٹھائیوں میں جراثیم پکڑے جائیں تو رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں ڈیم نہ بنے۔ چئیرمین پیمرا نے کہا کہ نجی ٹی وی کو شوکاز نوٹس بھیج کر وضاحت مانگیں گے۔تاہم غریدہ فاروقی نے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔

Advertisement

Source DailyAusaf
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings