Advertisement

وہ پاکستانی وکیل جس کے عدالت پیش ہوتے ہی چیف جسٹس کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے

Advertisements

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شریف فیملی کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے شریف فیملی کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل کی سماعت کی ،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ پیش ہوتے ہیں میرے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے،

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر میرے معالج کمرے میں موجود تھے،مجھے انہوںنے بتایا کہ خواجہ حارث کے آنے پر میرے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ،اس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ دوسری طرف چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بطورجج ہمیں سچ کوجھوٹ سےالگ کرناہوتا ہے اس لیے جج کا فیصلہ عرصہ تک تاثربرقراررکھتا ہے۔ سابق ججزسعیدالزمان صدیقی،جاویداقبال،چودھری اعجاز،برہان الدین کیلئےمنقعدہ تعزیتی ریفرنس سےخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہسعیدالزمان صدیقی نےپی سی اوکےتحت حلف نہیں لیاوہمارشل لاکیخلاف بارش کاپہلاقطرہ ثابت ہوئے۔انھوں نے کہا کہسعیدالزمان صدیقی پرپی سی اوکےتحت حلف لینےکادباؤڈالاگیا لیکن سعیدالزمان صدیقی کسی دباؤکوخاطرمیں نہ لائے، وقت ہمیشہ بہادروں کاساتھ دیتا ہے۔ اور سندھ میں تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سندھ میں ہندو کمیونٹی کی جائیدادوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی،تحریک انصاف کے رکن اسمبلی رمیش کمار اور دیگر عدلات میں پیش ہوئے ۔رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے عدالت کو بتایاکہ کمیٹی نے کچھ جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے،لاڑکانہ سے 45 درخواستیں موصول ہوئیں، لاڑکانہ ڈویژن کے علاوہ بھی قبضوں سے متعلق درخواستیں ہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم کمیٹی کا دائرہ کار بڑھا دیتے ہیں، بنیادی طور پر ہم نے ڈاکٹر بھگوان داس کی بیگم کی شکایت پر نوٹس لیا تھا،ڈاکٹر بھگوان داس کی بیگم کی شکایت پررپورٹ ہمیں 15 دن میں چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ڈاکٹر بھگوان داس کے کئی مقدمات ہائیکورٹ میں چل رہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس معاملے میں کمیٹی کی دستخط شدہ رپورٹ چاہیے،عدالت نے رپورٹ جمع کرانے کیلئے15دن کاوقت دیتے ہوئے سماعت 30نومبرتک ملتوی کردی۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings