Advertisement

چیف جسٹس نے ایسی چیز پر از خود نوٹس لے لیا کہ ہر کوئی جھولیاں اٹھا کر دعائیں دینے لگا ، زبردست خبر آ گئی

Advertisements

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سندھ میں ہندو برادری کی جائیدادوں پر مبینہ طور پر غیر قانونی قبضے کا نوٹس لے لیا۔ ڈان نیوز کے مطابق ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل پاکستان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سیکریٹری مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی، سیکریٹری انسانی حقوق اسلام آباد، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری محکمہ اقلیتی امور، حکومت سندھ، کمشنر لاڑکانہ کو نوٹس جاری کردیے۔

ترجمان کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی۔ خیال رہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس پروفیسر بھگوان داس کی اہلیہ ڈاکٹر بھگوان دیوی کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر لیا گیا۔وائرل ویڈیو میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ مافیا طاقت کے زور پر قبضہ کر رہا ہے۔ ویڈیو کے مطابق اپر سندھ میں اراضی کے جعلی دستاویزات تیار کیے جارہے، جس کی وجہ سے ہندو برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے اور متعدد ہندو علاقہ چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں میں چلے گئے ہیں جبکہ دیگر اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کی تیاری کرکے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

ترجمان کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی۔ خیال رہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے یہ نوٹس پروفیسر بھگوان داس کی اہلیہ ڈاکٹر بھگوان دیوی کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر لیا گیا۔وائرل ویڈیو میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ مافیا طاقت کے زور پر قبضہ کر رہا ہے۔ ویڈیو کے مطابق اپر سندھ میں اراضی کے جعلی دستاویزات تیار کیے جارہے، جس کی وجہ سے ہندو برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے اور متعدد ہندو علاقہ چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں میں چلے گئے ہیں جبکہ دیگر اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کی تیاری کرکے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

Advertisement

Source DailyPakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings